پروفیسر ڈاکٹر عرفانہ حسن

جب بھی "ہراسانی” کا ذکر ہوتا ہے تو عموماً ذہن میں جنسی ہراسانی کا تصور ابھرتا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق ہراسانی محض ایک قسم کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک وسیع سماجی، نفسیاتی اور قانونی معاملہ ہے جو مختلف شکلوں میں افراد کی زندگیوں کو متاثر کرتا ہے۔

ہراسانی کیا ہے؟

ہراسانی سے مراد کسی فرد پر مسلسل یا بار بار ایسا دباؤ ڈالنا ہے جس کا مقصد اسے خوفزدہ کرنا، ذہنی اذیت پہنچانا، اس کی آزادی محدود کرنا، اس کے فیصلوں پر اثر انداز ہونا یا اسے اپنی مرضی کے خلاف عمل کرنے پر مجبور کرنا ہو۔

ماہرین کے نزدیک ہراسانی کی بنیاد اکثر جنس نہیں بلکہ اختیار، اثر و رسوخ اور طاقت کے ناجائز استعمال پر ہوتی ہے۔

گھریلو ہراسانی: ایک خاموش مگر سنگین مسئلہ

گھریلو زندگی میں ہراسانی مختلف صورتوں میں سامنے آ سکتی ہے۔ اگر شوہر یا بیوی مسلسل دھمکیاں دیں، معاشی دباؤ ڈالیں، بچوں سے محروم کرنے کا خوف پیدا کریں یا ذہنی اذیت کا سبب بنیں تو یہ محض خاندانی اختلاف نہیں بلکہ ہراسانی کی ایک شکل ہے۔

اسی طرح والدین، بہن بھائی یا خاندان کے دیگر افراد بھی جذباتی اور نفسیاتی دباؤ کے ذریعے کسی فرد کو ہراساں کر سکتے ہیں۔

ملازمت کی جگہ پر ہراسانی

دفاتر، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور دیگر اداروں میں کسی ملازم یا زیرِ تربیت فرد کی مسلسل تذلیل کرنا، ترقی کے مواقع محدود کرنا، اختیارات کا ناجائز استعمال کرنا یا کام کا ماحول ناقابلِ برداشت بنا دینا بھی ہراسانی شمار ہوتا ہے۔

کئی مرتبہ ایسے رویوں کو نظم و ضبط کا نام دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ ہراسانی کی شکل اختیار کر چکے ہوتے ہیں۔

جنسی ہراسانی

ناپسندیدہ گفتگو، غیر اخلاقی اشارے، نامناسب پیغامات، جسمانی قربت کی کوشش یا کسی فائدے کے بدلے ناجائز مطالبات جنسی ہراسانی کی نمایاں صورتیں ہیں۔

قانون ایسے افعال کو جرم قرار دیتا ہے اور متاثرہ افراد کو شکایت اور قانونی کارروائی کا حق حاصل ہے۔

نفسیاتی اور جذباتی ہراسانی

مسلسل تنقید، تضحیک، کردار کشی، خود اعتمادی کو مجروح کرنا یا کسی فرد کو ذہنی طور پر کمزور اور ناقابلِ اعتبار ثابت کرنے کی کوشش نفسیاتی ہراسانی کی مثالیں ہیں۔

ماہرین کے مطابق بعض اوقات ایسی ہراسانی کے اثرات جسمانی تشدد سے بھی زیادہ گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں۔

برقی ذرائع کے ذریعے ہراسانی

موجودہ دور میں سماجی رابطوں کی ویب گاہوں اور دیگر برقی ذرائع کے ذریعے ہراسانی میں اضافہ ہوا ہے۔

دھمکیاں دینا، جعلی شناخت استعمال کرنا، کسی شخص کا مسلسل تعاقب کرنا، تصاویر یا معلومات کا غلط استعمال کرنا، بلیک میل کرنا اور کردار کشی کرنا اس کی عام صورتیں ہیں۔

تعلیمی اداروں میں ہراسانی

اساتذہ، سینئر طلبہ یا انتظامیہ کی جانب سے اختیارات کا ناجائز استعمال، امتیازی سلوک، غیر ضروری تذلیل اور ذہنی دباؤ بھی ہراسانی کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

اگر آپ ہراسانی کا شکار ہوں تو کیا کریں؟

– واضح طور پر بتائیں کہ یہ رویہ ناقابلِ قبول ہے۔

– تمام شواہد اور ثبوت محفوظ رکھیں۔

– قابلِ اعتماد افراد کو اعتماد میں لیں۔

– ادارے کی شکایتی کمیٹی یا متعلقہ فورم سے رابطہ کریں۔

– ضرورت پڑنے پر قانونی معاونت حاصل کریں۔

– اپنی ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے ماہرین سے مشورہ لینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔

پاکستان میں قانونی تحفظ

پاکستان میں ہراسانی کے مختلف پہلوؤں سے نمٹنے کے لیے متعدد قوانین موجود ہیں۔ یہ قوانین متاثرہ افراد کو شکایت درج کروانے، تحقیقات کے عمل میں حصہ لینے اور انصاف حاصل کرنے کا حق فراہم کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں بیشتر سرکاری اور نجی اداروں میں شکایات کے ازالے کے لیے خصوصی کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جہاں متاثرہ افراد رجوع کر سکتے ہیں۔

اصل مسئلہ کیا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ ہراسانی کی جڑ جنس نہیں بلکہ طاقت اور اختیار کا ناجائز استعمال ہے۔

جب کوئی شخص اپنے عہدے، دولت، سماجی حیثیت، رشتے یا اثر و رسوخ کے ذریعے دوسرے فرد میں خوف پیدا کرے، اس کی آزادی محدود کرے یا اس کے وقار کو مجروح کرے تو ہراسانی جنم لیتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہراسانی کو صرف جنسی مسئلے تک محدود نہ سمجھا جائے بلکہ اس کی تمام صورتوں کو پہچانا جائے تاکہ ہر فرد کو عزت، تحفظ اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

About the Author

Quetta Voice is an English Daily covering all unfolding political, economic and social issues relating to Balochistan, Pakistan's largest province in terms of area. QV's main focus is on stories related to education, promotion of quality education and publishing reports about out of school children in the province. QV has also a vigilant eye on health, climate change and other key sectors.