کوئٹہ — اسٹاف رپورٹر:
بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال کے باعث معطل کی گئی کوئٹہ سے ٹرین سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں، جس سے مسافروں میں اطمینان کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق گزشتہ پانچ روز سے بند ٹرین آپریشنز کو دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔
ریلوے ذرائع کے مطابق 31 جنوری کو صوبے کے مختلف علاقوں میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں ریلوے ٹریکس کو نقصان پہنچا تھا، جس کے باعث حفاظتی خدشات کے پیش نظر کوئٹہ سے اندرونِ صوبہ اور ملک کے دیگر حصوں کے لیے چلنے والی تمام ٹرینیں عارضی طور پر معطل کر دی گئی تھیں۔ اس دوران جعفر ایکسپریس (کوئٹہ تا پشاور)، بولان میل (کوئٹہ تا کراچی) اور چمن پسنجر سمیت متعدد ٹرین سروسز متاثر ہوئیں، جبکہ پشاور سے آنے والی جعفر ایکسپریس کو جیکب آباد میں روک دیا گیا تھا۔ متاثرہ مسافروں کو ٹکٹوں کی رقم واپس کی گئی۔
صورتحال میں بہتری کے بعد ریلوے انتظامیہ نے ٹرین سروسز کی بحالی کا اعلان کیا ہے۔ کوئٹہ سے چمن جانے والی چمن پسنجر ٹرین اپنے معمول کے شیڈول کے مطابق روانہ ہو چکی ہے، جبکہ کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کی سروس بھی دوبارہ بحال کر دی گئی ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ یہ بحالی بلوچستان کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ یہ ریلوے لائن صوبے کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑتی ہے۔
ریلوے حکام نے بتایا کہ کوئٹہ اور کراچی کے درمیان چلنے والی بولان میل کی سروس تاحال مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی، تاہم توقع ہے کہ اسے آئندہ چند دنوں میں دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔ حکام کے مطابق ٹریکس کی مرمت اور سیکیورٹی کلیئرنس کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
مسافروں کا کہنا ہے کہ ٹرین سروس کی معطلی کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور صوبے کا دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ متاثر ہوا۔ ریلوے انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ٹرینوں کی بحالی کے ساتھ سخت سیکیورٹی انتظامات بھی کیے گئے ہیں، جبکہ مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ سفر سے قبل ٹرینوں کے شیڈول کی تصدیق ضرور کریں۔
یہ پیش رفت نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک بھر کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ کوئٹہ ریلوے جنکشن ایک مرکزی رابطہ گاہ کی حیثیت رکھتا ہے







