قسیم شاہ، نیوز ڈیسک:

کوئٹہ، 16 مارچ: بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس پیر کے روز کوئٹہ میں منعقد ہوا جس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کی۔

اجلاس میں وفاقی اور صوبائی اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور امن و امان کی مجموعی صورتحال، افغان مہاجرین کی واپسی، حوالہ ہنڈی کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی، بھتہ خوری اور اسمگلنگ کی روک تھام سمیت اہم امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس کے دوران مختلف وفاقی اداروں کے سربراہان نے اپنے اپنے شعبوں سے متعلق اقدامات اور بلوچستان میں ادارہ جاتی تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے آگاہ کیا۔

اجلاس میں بلوچستان میں امن و استحکام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے فیڈرل کانسٹیبلری کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں فورس کے دو ونگز پر مشتمل تقریباً تین ہزار اہلکار صوبے کے مختلف علاقوں میں تعینات کیے جائیں گے۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کو مزید فعال بنایا جائے گا اور ادارے میں موجود خالی آسامیوں کو پُر کیا جائے گا، جن میں مقامی افراد کو ترجیح دی جائے گی۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے سوشل میڈیا پر ریاست مخالف سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان حکومت کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بڑھانے اور صوبے کے سیکیورٹی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بھرپور تعاون فراہم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور امن کے قیام کے لیے ہر ممکن معاونت جاری رکھے گی۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے پہلے دن سے واضح کر دیا تھا کہ ریاست کی عمل داری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق آج بلوچستان میں احتجاج کے نام پر شاہراہوں کو بند نہیں کیا جاتا، جو حکومتی اقدامات اور بہتر انتظامی عمل داری کا ثبوت ہے۔

وزیر اعلیٰ نے صوبے میں امن کی بحالی کے لیے وفاقی حکومت کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ قومی یکجہتی اور مشترکہ کوششوں سے دہشت گردی کو شکست دی جا سکتی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

About the Author

Quetta Voice is an English Daily covering all unfolding political, economic and social issues relating to Balochistan, Pakistan's largest province in terms of area. QV's main focus is on stories related to education, promotion of quality education and publishing reports about out of school children in the province. QV has also a vigilant eye on health, climate change and other key sectors.