کوئٹہ: کٹ پیس مارکیٹ میں ہونے والی ساڑھے گیارہ کروڑ روپے کی تاریخی ڈکیتی کے مقدمے میں پولیس نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے محکمہ انسداد دہشت گردی کے ایک انسپکٹر سمیت تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ کارروائی کے دوران ایک کروڑ 90 لاکھ روپے سے زائد نقد رقم بھی برآمد کر لی گئی ہے۔

پولیس کے سینئر حکام کے مطابق سی ٹی ڈی کے اسپیشل آپریشن ونگ میں تعینات انسپکٹر اورنگزیب کھوکھر کو شواہد کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا۔ اس سے قبل اسی مقدمے میں پولیس سپاہی محمود اور قلعہ عبداللہ کے رہائشی حبیب کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ واردات میں ایک اور پولیس افسر سمیت متعدد اہلکاروں کے ملوث ہونے کا شبہ ہے جو ڈکیتی کے بعد فرار ہو گئے تھے۔ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔

یہ ڈکیتی دسمبر 2025 میں تھانہ سٹی کی حدود میں واقع کٹ پیس مارکیٹ کے ایک شاپنگ سینٹر میں پیش آئی تھی۔ متاثرہ تاجر اسد اللہ لونی کے مطابق وہ سولر اور کپڑوں کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور مسجد روڈ پر واقع اسی مارکیٹ میں ان کا شاپنگ سینٹر ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق یکم دسمبر کو انہوں نے قندھاری بازار میں واقع نجی بینک برانچ سے ساڑھے گیارہ کروڑ روپے وصول کیے جو شام کے وقت شاپنگ سینٹر کے دفتر میں موجود لاکر میں رکھے گئے۔ مارکیٹ ساڑھے آٹھ بجے بند کر دی گئی تھی۔

بعد ازاں رات کے وقت مارکیٹ انتظامیہ کی اطلاع پر جب موقع پر پہنچا گیا تو معلوم ہوا کہ دفتر اور شاپنگ سینٹر کے تالے توڑ دیے گئے ہیں اور لاکر سے پوری رقم غائب ہے۔ چوکیدار کے بیان کے مطابق رات تقریباً تین بجے مسلح افراد تین گاڑیوں میں مارکیٹ آئے، مرکزی دروازے کا تالا توڑا، چوکیدار کو قابو میں رکھا اور شاپنگ سینٹر میں داخل ہو کر نقد رقم لوٹ کر فرار ہو گئے۔

ابتدائی تفتیش کے بعد مقدمہ سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا۔ تفتیشی ٹیم نے چوکیدار، تاجروں اور ملازمین کے بیانات قلم بند کیے، سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ مخبروں کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگایا۔

تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ قلعہ عبداللہ میں سرگرم ایک گینگ اس واردات میں ملوث ہے جو ماضی میں بھی بینکوں سے بڑی رقوم نکلوانے والوں اور غیر رسمی مالی لین دین سے وابستہ افراد کو نشانہ بناتا رہا ہے۔ اس گینگ نے مبینہ طور پر بعض پولیس اہلکاروں کے ساتھ مل کر اس بڑی ڈکیتی کی منصوبہ بندی کی تھی۔

گرفتاری کے بعد انسپکٹر اورنگزیب کھوکھر کو جوڈیشل مجسٹریٹ کوئٹہ سیف اللہ ترین کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دیگر ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں اور جلد مزید پیش رفت متوقع ہے۔ یہ مقدمہ بلوچستان کی تاریخ کی بڑی نقدی ڈکیتیوں میں شمار کیا جا رہا ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندرونی عناصر کی مبینہ شمولیت نے تشویش پیدا کر دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

About the Author

Quetta Voice is an English Daily covering all unfolding political, economic and social issues relating to Balochistan, Pakistan's largest province in terms of area. QV's main focus is on stories related to education, promotion of quality education and publishing reports about out of school children in the province. QV has also a vigilant eye on health, climate change and other key sectors.