نیوز ڈیسک
رکنی: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ کوہِ سلیمان کے پہاڑ غیرت مند قبائل کی شناخت، تاریخ اور ورثہ ہیں اور کوہ سلیمان ڈویژن کا قیام بلوچستان میں پسماندگی کے خاتمے، مؤثر گورننس اور متوازن ترقی کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔
رکنی میں کوہ سلیمان ڈویژن کے قیام اور رکنی کو ڈویژنل ہیڈ کوارٹر قرار دینے کی مناسبت سے منعقدہ بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ یہ اقدام محض انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے اس خطے کی تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور عوامی سہولیات کی فراہمی کی مکمل ضمانت ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ رکنی، جو پہلے یونین کونسل تھا، آج ڈویژنل ہیڈ کوارٹر بن رہا ہے، جو علاقے کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھولے گا۔ وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ نئے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں:
50 بستروں پر مشتمل سرکاری ہسپتال قائم کیا جائے گا
ریزیڈنشل کالج کو جلد مکمل کیا جائے گا
نہاڑکور ڈیم کی تعمیر مکمل کی جائے گی
رکنی کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دیا جائے گا
رکنی ماڈل بازار پر فوری کام شروع ہوگا
رکنی پریس کلب قائم کیا جائے گا
رہائشی ہاؤسنگ اسکیم متعارف کرائی جائے گی
میونسپل کمیٹی کا نام میونسپل کمیٹی ڈیرہ کھیتران رکھا جائے گا
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ کوہ سلیمان ڈویژن کے تمام اضلاع کے عوام آپس میں بھائی ہیں اور جس طرح کوہ سلیمان بلند ہے، اسی طرح یہاں کے لوگوں کے حوصلے اور وقار بھی بلند ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ نوجوانوں کو دانستہ طور پر ایک لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا گیا اور منظم پراپیگنڈے کے ذریعے انہیں ریاست سے دور کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم بلوچ نوجوان اب باشعور ہیں اور ایسے عناصر کے ہاتھوں استعمال نہیں ہوں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بلوچ اور پاکستان ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے اور بلوچ قوم کی بقا اور خوشحالی پاکستان کے استحکام سے وابستہ ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت سے غلطیاں ہو سکتی ہیں اور گورننس پر تنقید ہر شہری کا حق ہے، لیکن ریاست سے ناراضی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ جو وعدے کرتے ہیں انہیں عملی شکل دیتے ہیں اور آج کیے گئے تمام اعلانات مکمل کیے جائیں گے۔
تقریر کے اختتام پر وزیر اعلیٰ نے کوہ سلیمان کے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب خواب دیکھنے نہیں بلکہ خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا وقت ہے۔ قوم محض نعروں سے نہیں بنتی بلکہ کردار، علم اور محنت سے بنتی ہے۔ قلم کو ہتھیار، علم کو طاقت اور محنت کو پہچان بناؤ۔
جلسے میں کھیتران، بگٹی، زرکون، بزدار، غرشین اور لغاری قبائل سمیت عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب سے راکین صوبائی اسمبلی زرک خان مندوخیل اور حاجی علی مدد جتک، پیپلز پارٹی کے رہنما میر باز محمد کھیتران، سابق صوبائی وزیر نصیب اللہ مری، نیشنل پارٹی کے عبدالکریم کھیتران، ڈیرہ بگٹی کے ضلع چیئرمین غلام نبی شمبانی، کوہلو کے ضلع چیئرمین میر نثار احمد مری اور سمیع خان زرکون نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے وزیر اعلیٰ کے اقدام کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی یونین کونسل کو ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کا درجہ دیا گیا ہے، جو وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی عوام دوست پالیسیوں کا واضح ثبوت ہے۔







