سٹاف رپورٹر:
بلوچستان ہائی کورٹ نے پیر کے روز کوئٹہ میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے بیشتر منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ سماعت چیف جسٹس کامران خان ملاخیل کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔
عدالت کو شہر کی اہم سڑکوں پر جاری ترقیاتی کاموں سے متعلق تفصیلی رپورٹس اور تصویری شواہد پیش کیے گئے۔ چیف منسٹر پیکج برائے کوئٹہ کے تحت انجنئیر رفیق بلوچ کی سربراہی میں متعدد منصوبوں کی پیش رفت کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے انہیں عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا لیا گیا۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کرسمس سے قبل یادگار کی تعمیر مکمل کی جائے جبکہ امداد چوک پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں کو ترجیحی بنیادوں پر پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے۔
سماعت کے دوران بتایا گیا کہ سریاب سروس روڈ پر اسٹارم واٹر ڈرین کا کام آخری مرحلے میں ہے اور صرف محدود حصہ باقی رہ گیا ہے، جبکہ سڑک کی اسفالٹک بیس کا زیادہ تر کام مکمل ہو چکا ہے اور باقی تیزی سے جاری ہے۔ ایئرپورٹ روڈ پر ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ آزمائشی بنیادوں پر فعال ہے اور اسے سولر توانائی سے چلانے کا عمل جاری ہے۔ کوئٹہ کے مزید چار مقامات پر ایسے پلانٹس کی تنصیب سے متعلق تفصیلات بھی عدالت میں پیش کی گئیں۔
عدالت نے سریاب روڈ پر واقع دو پلوں سے متعلق رپورٹ جمع کرانے کے لیے پروجیکٹ حکام کو مہلت دے دی۔ کیسکو کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ہائی اور لو ٹینشن لائنوں کی منتقلی میں مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔
عدالت نے سریاب روڈ پر تجاوزات کے باعث ٹریفک مسائل کا نوٹس لیتے ہوئے پھل فروشوں اور گاڑیوں کے لیے مربوط حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت کی۔ اس ضمن میں سریاب روڈ اور جیل روڈ کے درمیان واقع پلاٹ کو پارکنگ اور فروٹ مارکیٹ کے طور پر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور آئی، جبکہ لاہور ماڈل کے تحت سبزی اور پھل فروش گاڑیوں کے لیے مخصوص مقامات ڈیزائن کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
عدالت نے کیو سی بی اور پروجیکٹ ڈائریکٹر کو فوری اجلاس بلا کر احکامات پر تیز رفتار عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی اور آئندہ سماعت پر جامع رپورٹ طلب کر لی۔
کیس کی مزید سماعت 5 مارچ 2026 تک ملتوی کر دی گئی، جبکہ عدالتی حکم کی نقل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا گیا







