کوئٹہ میں صنفی بنیاد پر تشدد کے مقدمات میں پولیس کے کردار کو بہتر بنانے کے لیے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ منعقد کی گئی، جس میں بلوچستان بھر سے فرنٹ لائن پولیس افسران نے شرکت کی۔
یہ ورکشاپ عورت فاؤنڈیشن کے اشتراک سے یو این ویمن اور اسلام آباد میں جرمن سفارت خانے کے تعاون سے منعقد کی گئی۔ تقریب شہید حمید شکیل ہال کوئٹہ میں ہوئی، جہاں ان پولیس افسران کو تربیت دی گئی جو صنفی تشدد کا شکار خواتین اور بچیوں کے لیے اکثر پہلا رابطہ ہوتے ہیں۔
ورکشاپ کا مقصد صنفی بنیاد پر تشدد سے متاثرہ افراد سے نمٹنے کے دوران پولیس اہلکاروں کی سمجھ بوجھ، حساسیت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا تھا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ خوف، سماجی دباؤ اور پیچیدہ قانونی عمل کے باعث متاثرہ افراد کے لیے انصاف تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے، اس لیے ہمدردانہ، رازدارانہ اور ذمہ دارانہ پولیس رویہ نہایت ضروری ہے۔
ابتدائی سیشن میں فوزیہ شاہین نے صنفی تصورات، نقصان دہ سماجی رویوں اور صنفی تشدد کے متاثرین اور ان کے خاندانوں پر پڑنے والے جذباتی اور سماجی اثرات پر روشنی ڈالی۔
قانونی ماہر فاطمہ جہانزیب نے صنفی حساس تفتیشی طریقہ کار، متاثرہ فرد کو مرکز میں رکھنے والے ریفرل نظام اور خواتین و بچیوں کو دستیاب قانونی تحفظات پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے ٹراما انفارمڈ پولیسنگ اور ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
یاسمین مغل نے جینڈر پیریٹی پراجیکٹ کے مقاصد سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ منصوبہ بلوچستان بھر میں عوام کی بہتر خدمت کے لیے تحفظ، وقار اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔
ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے محمد خلیل نے بلوچستان میں یو این ویمن کے انصاف تک رسائی سے متعلق اقدامات کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جینڈر پیریٹی پراجیکٹ خواتین اور بچیوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جس کے تحت پولیس اور عدلیہ میں خواتین کی شمولیت بڑھانے، جینڈر ریسپانسیو یونٹس قائم کرنے، کمیونٹی رضاکاروں کو شامل کرنے اور متاثرین کے لیے محفوظ مقامات بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
الاؤالدین خیلجی نے صنفی بنیاد پر تشدد سے متعلق خدمات کو بہتر بنانے کے لیے بلوچستان پولیس کی سنجیدہ کوششوں کو سراہا اور اے آئی جی جینڈر اسرار احمد عمرانی کی کاوشوں کی تعریف کی، جنہوں نے رپورٹنگ افسران کے لیے خصوصی تربیت کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اس ورکشاپ کے لیے مکمل ادارہ جاتی تعاون فراہم کیا۔
تقریب کے اختتام پر اے آئی جی جینڈر اسرار احمد عمرانی نے تربیت مکمل کرنے والے پولیس افسران میں اسناد تقسیم کیں۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ صنفی بنیاد پر تشدد کے مقدمات میں زیادہ ہمدردانہ اور متاثرہ فرد کو مرکز میں رکھنے والا کردار ادا کریں گے۔







