تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پیش آنے والے دہشتگردی کے سنگین واقعات پر پارلیمنٹ میں کھل کر بات کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بڑے واقعات کے بعد خاموشی اختیار کرنا یا ذمہ داری سے گریز کرنا عوام کے اعتماد کو مزید مجروح کرتا ہے۔
محمود خان اچکزئی کے مطابق افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اتنی بڑی واردات کے باوجود کسی بھی سطح پر استعفیٰ یا اخلاقی ذمہ داری قبول کرنے کی مثال سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان میں امن و امان کے مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے اور اس کا حل محض بیانات میں نہیں بلکہ پارلیمانی بحث، شفاف جواب دہی اور مؤثر پالیسی سازی میں مضمر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک حقائق عوام کے سامنے نہیں لائے جاتے، مسائل جوں کے توں رہیں گے







