سید محمد یاسین
اسلام آباد: میڈیکل طلبہ نے Higher Education Commission, Pakistan (ایچ ای سی) اور Pakistan Medical & Dental Council (پی ایم ڈی سی) کی حالیہ پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے 211 نشستوں میں کمی کے خلاف احتجاج کیا اور فوری طور پر مکمل 333 نشستوں کی بحالی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
طلبہ کے مطابق آزاد کشمیر سے 8 جبکہ کے ایم یو کی جانب سے تقریباً 114 نشستیں فراہم کی گئی ہیں، تاہم پنجاب، بلوچستان اور سندھ کی جانب سے نشستیں نہ ملنے پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 211 نشستوں کی کمی نے سینکڑوں طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

211 نشستوں میں کمی پر تشویش
طلبہ رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ نشستوں میں اضافے کے بجائے کمی کرنا تعلیمی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف طلبہ کے بنیادی حقِ تعلیم کو متاثر کرتا ہے بلکہ پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کے لیے مواقع بھی محدود کرتا ہے۔
پلیسمنٹ روکنے کا مطالبہ
طلبہ نے ایچ ای سی سے مطالبہ کیا ہے کہ جب تک تمام جائز اور مکمل نشستیں بحال نہیں کی جاتیں، کسی بھی طالب علم کی پلیسمنٹ نہ کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ جزوی اقدامات مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
سابقہ فاٹا اور بلوچستان میں تعلیم کے فروغ کی ضرورت
طلبہ نے اس بات پر زور دیا کہ سابقہ فاٹا اور بلوچستان جیسے علاقوں میں آپریشنز کے بجائے تعلیمی اداروں، خصوصاً میڈیکل کالجز کے قیام اور نشستوں میں اضافے کو ترجیح دی جائے تاکہ پائیدار ترقی اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
مصنف ایم بی بی ایس طالب علم اور سٹوڈنٹس نیکسس بای ایس ایم وائی کا بانی ہے.







