سٹاف رپورٹر: کوئٹہ:
محمود خان اچکزئی نے خبردار کیا ہے کہ اگر خیبر پختونخوا کے عوامی مینڈیٹ کو پامال کیا گیا یا گورنر راج نافذ کرنے کی کسی بھی کوشش کی گئی تو عوام سڑکوں پر بھرپور مزاحمت کریں گے۔ یہ بات انہوں نے ایوب اسٹیڈیم میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے زیراہتمام منعقدہ بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جو شہید خان عبدالصمد خان اچکزئی کی 52ویں برسی کے موقع پر منعقد ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین کو محض رسمی دستاویز بنا کر رکھ دیا گیا ہے، حالانکہ وہ ہی ریاستی نظم و نسق کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ایک ایسا پارلیمان وجود میں آئے جو دباؤ، اثر و رسوخ یا غیر شفاف طریقوں سے تشکیل پایا ہو، تو وہ آئین کی بنیادی ساخت میں تبدیلی کا اخلاقی اختیار نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق تمام دباؤ کے باوجود عوام نے اپنا فیصلہ واضح طور پر دیا، مگر کچھ حلقوں میں وہ امیدوار کامیاب قرار دیے گئے جو اصل مقابلے میں پیچھے تھے، اور یہ سب غیر منصفانہ حربوں اور مالی معاملات کے ذریعے کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ارکان کی اجتماعی نااہلی ایک مصنوعی اکثریت بنانے کی کوشش ہے، جس کے نتیجے میں ایک ایسی حکومت کھڑی کی گئی ہے جو عوامی اعتماد سے محروم ہے۔ اچکزئی کا کہنا تھا کہ پارلیمان کے شفافیت سے متعلق سوال اٹھانے پر ناراضی ظاہر کی جاتی ہے، جبکہ عدالتی نظام بھی انصاف فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے۔
سیکیورٹی اور امن و امان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پشتون اور بلوچ علاقوں کی وسعت اور وسائل ہی اُن میں بدامنی پیدا کرنے کی بنیادی وجہ بنتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں آئین کی بالادستی ہوتی ہے، وہاں یونیفارم عوام کے تحفظ کی علامت ہوتا ہے، مگر بدقسمتی سے یہاں خوف کی علامت بن چکا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کے بنیادی وسائل اور حکمرانی کا اختیار عوامی قومیتوں — پشتون، بلوچ، سندھی، پنجابی اور سرائیکی — کے پاس ہونا چاہیے، نہ کہ کسی بااثر طبقے کے پاس۔
اجلاس سے پی ایم اے پی، پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا اور آئین و جمہوری حقوق کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا۔ اجتماع کے اختتام پر پی ایم اے پی کوئٹہ کے صدر سید شرف نے قرارداد پیش کی






