اسرائیلی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہفتے کے روز ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی وسیع پیمانے کے حملوں کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔ یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اس سے قبل ایرانی حکام یہ بیان دے چکے تھے کہ ملک کی اعلیٰ قیادت “محفوظ اور خیریت سے” ہے۔
اس معاملے سے آگاہ دو اسرائیلی ذرائع کے مطابق اندرونی سطح پر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام کے پاس ان کی میت کی تصاویر موجود ہیں، جبکہ دوسرے ذریعے کے مطابق اس حوالے سے باضابطہ اعلان کی تیاری جاری ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بیان دیا تھا کہ ایسے متعدد شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر “اب زندہ نہیں رہے۔”
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں نمایاں شدت آ چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ یہ آپریشن تہران میں موجود حکومتی نظام کو ختم کرنے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں اب تک 200 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ تاہم ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک بار پھر مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملک کے صدر اور سپریم لیڈر دونوں محفوظ ہیں۔ اس کے باوجود آیت اللہ علی خامنہ ای حملوں کے آغاز کے بعد سے نہ عوامی سطح پر نظر آئے ہیں اور نہ ہی ان کی جانب سے کوئی ویڈیو پیغام یا بیان جاری کیا گیا ہے۔
ان متضاد دعوؤں اور بیانات کے باعث خطے میں بے یقینی کی کیفیت مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال سے متعلق اطلاعات کی تاحال کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔







