نیوز ڈیسک

اسلام آباد: Higher Education Commission Pakistan (ایچ ای سی) اور Pakistan Medical and Dental Council (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے سابقہ فاٹا اور بلوچستان کے طلبہ کے لیے مختص میڈیکل نشستوں میں نمایاں کمی کے فیصلے پر تعلیمی و سماجی حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

فاٹا اور بلوچستان وہ خطے ہیں جو طویل عرصے سے معاشی پسماندگی، بنیادی سہولیات کی کمی اور بدامنی جیسے مسائل کا سامنا کرتے آئے ہیں۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ ان علاقوں کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم، خصوصاً میڈیکل کے شعبے میں، خصوصی کوٹہ اور سہولیات فراہم کرنا قومی ذمہ داری ہے تاکہ وہ اپنے علاقوں میں صحت اور ترقی کے فروغ میں کردار ادا کر سکیں۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ برسوں میں ان علاقوں کے لیے میڈیکل کی 333 نشستیں مختص تھیں، تاہم حالیہ فیصلے کے تحت یہ تعداد کم کر کے مجموعی طور پر 120 کر دی گئی ہے، جن میں 60 نشستیں فاٹا اور 60 بلوچستان کے لیے مختص کی گئی ہیں۔ ناقدین اس اقدام کو غیر منصفانہ اور تعلیمی مواقع میں کمی قرار دے رہے ہیں۔

تعلیمی ماہرین اور طلبہ تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر اس پالیسی پر نظرثانی کرے، سابقہ نشستیں بحال کرے اور پسماندہ علاقوں کے طلبہ کے لیے مزید تعلیمی سہولیات اور وظائف کا اعلان کرے تاکہ قومی سطح پر مساوی اور جامع ترقی کو یقینی بنایا جا س کے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

About the Author

Quetta Voice is an English Daily covering all unfolding political, economic and social issues relating to Balochistan, Pakistan's largest province in terms of area. QV's main focus is on stories related to education, promotion of quality education and publishing reports about out of school children in the province. QV has also a vigilant eye on health, climate change and other key sectors.