نیوز ڈیسک : کوئٹہ: 27 نومبر 2025
گورنر بلوچستان، جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ صوبے کی تمام سرکاری یونیورسٹیوں نے اس مقام کو حاصل کر لیا ہے جہاں ان کے سینئر اسکالرز اور محققین کمپنیوں اور سرکاری محکموں کے افسران کو جدید ترین تربیت دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کے جاری کیے گئے اسناد اور ڈگریاں بھی مکمل طور پر معتبر ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ملک کی ترقی اور عوام کے فائدے کے لیے یونیورسٹیوں میں موجود ماہرین کے علم اور تجربے سے بھرپور استفادہ کیا جائے۔
یہ باتیں گورنر بلوچستان نے بیوٹمز یونیورسٹی، ٹکتو کیمپس میں منعقدہ “جاب فیئر 2025” کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ اس تقریب میں وائس چانسلر ڈاکٹر خالد حفیظ، پرووائس وائس چانسلر ڈاکٹر میروائس کاسی، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر کلیم اللہ بابر، بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ اور دیگر یونیورسٹیوں، کمپنیوں اور بینکوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
گورنر نے کہا کہ بلوچستان کے سب سے بڑے مسائل میں سے ایک نوجوانوں کے لیے روزگار کے محدود مواقع ہیں۔ یہاں کے زیادہ تر نوجوان شدید بیروزگاری کا شکار ہیں اور پنجاب و سندھ کی طرح وسیع روزگار کے مواقع دستیاب نہیں ہیں۔ ایسے حالات میں “جاب فیئر” ایک اہم پُل کا کام دیتا ہے جو تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان رابطہ قائم کرتا ہے اور نوجوانوں کو کیریئر کے نئے مواقع تلاش کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جاب فیئر طلبہ کو عملی زندگی کا تجربہ فراہم کرتا ہے اور انہیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ تعلیم اور روزگار ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں طلبہ کو نہ صرف معیاری تعلیم دی جاتی ہے بلکہ انہیں جدید مہارتیں، مضبوط نیٹ ورک اور کیریئر کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنے منتخب کردہ شعبے میں کامیاب ہو سکیں۔
گورنر نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں اکیڈمیا اور انڈسٹری کے درمیان تعاون کو بڑھانا ناگزیر ہے، کیونکہ حکومت اکیلے تمام نوجوانوں کو روزگار فراہم نہیں کر سکتی، اس لیے پرائیویٹ سیکٹر کو مضبوط اور فعال بنانا انتہائی ضروری ہے۔
بیوٹمز یونیورسٹی کے اس آٹھویں جاب فیئر میں مختلف نیشنل اور انٹرنیشنل کمپنیوں اور بینکوں نے اسٹالز لگائے، جہاں نمائندگان طلبہ کو اپنے ادارے کی کارکردگی، پروڈکٹس اور روزگار کے مواقع کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کر رہے تھے۔ گورنر نے تقریب سے پہلے 100 سے زائد اسٹالز کا جائزہ بھی لیا اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کی







