امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اختتام کے قریب ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جس سے توانائی کی عالمی مارکیٹ میں وقتی سکون پیدا ہوا ہے۔
عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ کروڈ کی قیمت حالیہ کشیدگی کے دوران 119 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی۔ تاہم 10 مارچ 2026 کی ابتدائی گھنٹوں تک اس کی قیمت کم ہو کر تقریباً 87 سے 92 ڈالر فی بیرل کے درمیان آ گئی ہے، جو حالیہ بلند ترین سطح سے 20 ڈالر سے زائد کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں یہ کمی اس وقت سامنے آئی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازعہ “تقریباً مکمل” ہو چکا ہے اور صورتحال توقع سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ان بیانات کو عالمی سرمایہ کاروں نے کشیدگی میں ممکنہ کمی کے اشارے کے طور پر لیا۔
گزشتہ دنوں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خدشات پیدا ہو گئے تھے کہ جنگ کی صورت میں خلیجی خطے میں تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے یا اہم تنصیبات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان خدشات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔
تاہم جنگ کے خاتمے کی امید پیدا ہونے کے بعد سرمایہ کاروں کے خدشات میں کمی آئی ہے اور گزشتہ چند تجارتی سیشنز کے دوران عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں یہ کمی پاکستان جیسے ممالک میں بھی اثر انداز ہو سکتی ہے جہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑی حد تک عالمی منڈی سے وابستہ ہوتی ہیں۔ اگر عالمی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا تو آئندہ دنوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کچھ ریلیف ملنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ کی صورتحال ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہوئی، اس لیے عالمی تیل مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔







