نیوز ڈیسک: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا جن میں 1,100 اسکولوں میں فائبر آپٹک انٹرنیٹ کی فراہمی، 60 ہزار نوجوانوں کو روزگار اور کاروباری مواقع سے جوڑنے، 4 ہزار اسکولوں میں اضافی کلاس رومز کی تعمیر اور ایک لاکھ اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ داخل کرانے جیسے اہم منصوبے شامل ہیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت جمعرات کو چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں پی ایس ڈی پی کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں صوبائی وزراء میر سلیم خان کھوسہ اور میر صادق عمرانی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، مختلف محکموں کے سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ بلوچستان کے 1,100 تعلیمی اداروں کو فائبر آپٹک انٹرنیٹ سے منسلک کرنے کا منصوبہ تیزی سے جاری ہے اور اسے آئندہ چھ ماہ کے اندر مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔ اس منصوبے سے صوبے کے اسکولوں اور کالجوں میں ڈیجیٹل تعلیم، آن لائن لرننگ اور جدید تدریسی سہولیات کو فروغ ملے گا۔

حکام نے مزید بتایا کہ مستقبل میں تمام تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور سرکاری دفاتر کو بھی فائبر آپٹک نیٹ ورک سے منسلک کرنے کی تجویز زیر غور ہے جس سے صوبے میں ڈیجیٹل گورننس اور عوامی خدمات کی فراہمی مزید بہتر ہو سکے گی۔

اجلاس کو انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ پروگرام کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا جس کے تحت نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق اس پروگرام کا مقصد 60 ہزار نوجوانوں کو روزگار اور کاروباری مواقع سے جوڑنا ہے تاکہ صوبے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ مل سکے اور نوجوانوں کو باعزت روزگار میسر آ سکے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان کے 4 ہزار سنگل روم اسکولوں میں دو اضافی کمروں کی تعمیر کا منصوبہ جاری ہے جس سے طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے گا۔

ایک اور اہم پیش رفت میں حکام نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ایک لاکھ اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی اداروں میں داخل کرایا گیا ہے جو تعلیم کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے پیپلز ٹرین سروس منصوبے کے لیے فنڈز کے اجرا میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر اور محفوظ سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

حکام نے اجلاس کو بتایا کہ تحصیل سے صوبائی سطح تک شکایت سیلز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ عوامی شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنایا جا سکے اور شہری اپنی شکایات مؤثر انداز میں درج کرا سکیں۔

اجلاس میں صاف پینے کے پانی کی فراہمی، میونسپل سروسز کی بہتری اور صوبے کی 95 میونسپل کمیٹیوں کو جدید مشینری فراہم کرنے کے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے صفائی اور دیگر بلدیاتی خدمات کو نمایاں طور پر بہتر بنایا جا سکے گا۔

اجلاس کو صوبے میں غیر قانونی پوست کی کاشت کے خاتمے کے لیے جاری آپریشن پر بھی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ غیر قانونی فصلوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں اور ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہدایت کی کہ تمام جاری ترقیاتی منصوبوں کو 30 جون تک مقررہ اہداف کے مطابق مکمل کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو محکمے مقررہ مدت میں اہداف حاصل نہیں کریں گے ان کے غیر استعمال شدہ فنڈز واپس لے کر بہتر کارکردگی دکھانے والے محکموں کو منتقل کر دیے جائیں گے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، شفافیت اور اعلیٰ معیار کو یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد حاصل ہو سکیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عوامی فلاح و بہبود، بہتر گورننس اور بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت بلوچستان کی اولین ترجیحات ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

About the Author

Quetta Voice is an English Daily covering all unfolding political, economic and social issues relating to Balochistan, Pakistan's largest province in terms of area. QV's main focus is on stories related to education, promotion of quality education and publishing reports about out of school children in the province. QV has also a vigilant eye on health, climate change and other key sectors.