کوئٹہ: ڈیگاری قتل کیس کی سماعت ہفتے کے روز آگے نہ بڑھ سکی کیونکہ استغاثہ عدالت میں اپنا اہم گواہ پیش کرنے میں ناکام رہا، جس پر عدالت نے کارروائی ملتوی کر دی۔
یہ مقدمہ کوئٹہ کی ایڈیشنل سیشن عدالت میں زیرِ سماعت ہے، جہاں مرکزی ملزم سردار شیر باز ستکزئی، جو ایک مقامی قبائلی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں، عدالت میں پیش ہوئے۔ اہم گواہ کی عدم موجودگی کے باعث عدالت نے مقدمے میں نامزد دیگر نو افراد کو عبوری ضمانت دے دی جبکہ آئندہ سماعت کے لیے 7 مارچ کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
یہ کیس بانو ستکزئی المعروف بانو بی بی اور احسان اللہ سمالانی کے قتل سے متعلق ہے۔ بانو بی بی پانچ بچوں کی ماں تھیں۔ دونوں کو 4 جون 2025 کو کوئٹہ کے نواحی علاقے سنجیدی۔ڈیگاری میں قتل کیا گیا تھا۔
یہ واقعہ جولائی 2025 میں اس وقت قومی سطح پر توجہ کا مرکز بنا جب مبینہ طور پر واقعے سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جو قتل کے تقریباً دو ماہ بعد سامنے آئی۔ پولیس تحقیقات اور عدالتی ریکارڈ کے مطابق مقتولین کو ایک مقامی جرگے کے سامنے پیش کیا گیا تھا، جہاں خاندانی رضامندی کے بغیر تعلقات کے الزامات زیرِ بحث آئے اور بعد ازاں یہ معاملہ ہلاکتوں پر منتج ہوا۔
ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد ملک بھر میں شدید عوامی ردِعمل سامنے آیا۔ سوشل میڈیا پر غم، افسوس اور غصے کا اظہار کیا گیا، جبکہ بانو بی بی کے بچوں کے مستقبل پر بھی گہری تشویش ظاہر کی گئی۔ انصاف کے مطالبات پر مبنی مہمات جاری رہیں اور کوئٹہ میں سول سوسائٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جن میں قانونی طریقے سے انصاف کی فراہمی اور متاثرہ خاندانوں کے لیے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا۔
واقعے کو تقریباً نو ماہ گزرنے کے باوجود اس مقدمے کی کارروائی عوامی دلچسپی کا مرکز بنی ہوئی ہے، اور بہت سے حلقے اسے متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف اور کسی حد تک اطمینان کی امید سے جوڑے ہوئے ہیں۔







