نیوز ڈیسک
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ کوئی بھی حکومت اپنے ہی عوام کو مشکلات میں ڈالنا یا جیل بھیجنا نہیں چاہتی، تاہم آئین کی پاسداری اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
بلوچستان گرینڈ الائنس سے مذاکرات کے مطالبے پر جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئین حکومت کو عام شہریوں، خصوصاً بے روزگار اور بنیادی سہولیات سے محروم افراد کو ریلیف فراہم کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی وسائل کا ایک بڑا حصہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ ہو جاتا ہے، جبکہ حکومت پر تعلیم، صحت، سڑکوں اور سماجی بہبود جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا، “ہماری کوشش ہے کہ بچت کو یقینی بنایا جائے تاکہ عام شہری کے لیے کچھ مؤثر کیا جا سکے،” اور مزید کہا کہ بلوچستان کے عوام “ہمارے اپنے بچوں کی مانند ہیں۔” انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار رہی ہے اور آئندہ بھی بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے صوبے کو درپیش شدید مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بلوچستان کے پاس اضافی فنڈز موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کو پہلے ہی 10 فیصد تنخواہ میں اضافہ دیا جا چکا ہے اور آئندہ چھ ماہ کے دوران مزید مالی گنجائش موجود نہیں۔
انہوں نے کہا، “اگلے مالی سال میں ہم بیٹھ کر ان معاملات پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔”
میر سرفراز بگٹی نے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں اور سڑکوں کی بندش یا عوامی زندگی میں خلل ڈالنے سے گریز کریں۔ اساتذہ کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “آپ کا فرض تدریس ہے، سڑکیں بند نہ کریں۔”
دوسری جانب بلوچستان گرینڈ الائنس کے ارکان صوبے بھر میں ڈسپیرٹی ریڈکشن الاؤنس (DRA) کی فراہمی کے مطالبے پر احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔ احتجاج کے دوران سرکاری اسکولوں میں دھرنے دیے جا رہے ہیں جن میں اساتذہ، لیکچررز اور پروفیسرز شریک ہیں، جبکہ متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔







