نیوز ڈیسک:

بلوچستان کے وزیراعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔

پارلیمانی لیڈر مسلم لیگ (ن) میر سلیم خان کھوسہ اور پارلیمانی لیڈر پیپلز پارٹی میر محمد صادق عمرانی نے واضح طور پر کہا کہ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے خلاف تبدیلی کی باتیں بے بنیاد اور حقیقت سے عاری ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ سینیٹر میر دوستین خان ڈومکی کا دعویٰ نہ پارٹی پالیسی ہے اور نہ ہی اتحادی جماعتوں کا مشترکہ مؤقف، بلکہ یہ ان کی ذاتی رائے یا خواہش معلوم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ مسلم لیگ (ن) اور نہ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کسی قسم کی تبدیلی پر غور کر رہی ہے۔

بلوچستان اسمبلی اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما میر سلیم خان کھوسہ نے کہا کہ صوبہ اس وقت امن و امان اور گورننس کے سنگین چیلنجز سے گزر رہا ہے، جن پر ان کیمرا بریفنگ میں تفصیلی گفتگو ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ ڈومکی کے بیان کے بعد انہوں نے قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق سے رابطہ بھی کیا ہے، اور پارٹی قیادت اس بات کا ضرور جائزہ لے گی کہ سینیٹر نے مشاورت کے بغیر ایسا بیان کیوں دیا۔

پیپلز پارٹی کے پارلیمانی رہنما میر محمد صادق عمرانی نے بھی یہی مؤقف اپنایا کہ اتحادی جماعتیں وزیراعلیٰ بگٹی کی کارکردگی سے مطمئن ہیں اور ان کی حمایت مکمل طور پر برقرار ہے۔

دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں میں اختلافِ رائے فطری ہوتا ہے، مگر پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینا ذمہ دارانہ طرزِ سیاست نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان اس حوالے سے کوئی اختلاف نہیں، اور وزیراعلیٰ کی تبدیلی کی افواہیں محض بےبنیاد قیاس آرائیاں ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

About the Author

Quetta Voice is an English Daily covering all unfolding political, economic and social issues relating to Balochistan, Pakistan's largest province in terms of area. QV's main focus is on stories related to education, promotion of quality education and publishing reports about out of school children in the province. QV has also a vigilant eye on health, climate change and other key sectors.