سید علی شاہ :
کوئٹہ — بلوچستان ہائیکورٹ نے حکومتِ بلوچستان کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد معطل کردیا ہے جس کے تحت کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر انتظامی افسران کو فوجداری ضابطہ کار کی دفعات 22 اے اور 22 بی کے اختیارات دیے گئے تھے۔
چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس گل حسن ترین پر مشتمل ڈویژن بینچ نے یہ حکم آئینی درخواستوں کی ابتدائی سماعت کے دوران جاری کیا۔ درخواستیں ایڈووکیٹس راحب خان بلیدی، افتخار احمد لانگو اور عبدالبصیر کاکر کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے 30 دسمبر 2025 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے انتظامی افسران کو “جسٹس آف پیس” مقرر کیا، مگر اس فیصلے سے قبل صوبے کے چیف جسٹس سے مشاورت نہیں کی گئی جو آئین کی دفعات 175(3)، 202 اور 203 کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیشن ججز پہلے ہی بطور ایکس آفیشیو جسٹس آف پیس خدمات انجام دے رہے ہیں، اور انتظامیہ کو عدالتی اختیارات دینا ایک متوازی عدالتی نظام قائم کرنے کے مترادف ہے۔
عدالت نے درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردیے اور حکم دیا کہ اگلی سماعت تک نوٹیفکیشن پر عملدرآمد معطل رہے۔ عدالت نے حکم نامے کی نقول ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر بھیجنے کی بھی ہدایت کی۔
یہ معاملہ اس پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ انتظامی افسران کو عدالتی اختیارات دینے کا فیصلہ بلوچستان کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا تھا، جسے کابینہ کے ارکان نے منظوری دی۔ اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کی






