کوئٹہ:
بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جہاں صوبے کی مختلف سیاسی جماعتوں نے انتخابات کے التوا کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔
یونس بلوچ اور دیگر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صوبے میں شدید موسمی حالات اور ووٹر فہرستوں میں موجود سنگین خامیاں شفاف اور بروقت انتخابات کے انعقاد میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں انتخابات کرانے سے امن و امان کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے اور عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد مجروح ہونے کا خدشہ ہے۔
درخواست پر بلوچستان عوامی پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی اور پشتونخوا نیشنل پارٹی سمیت متعدد اہم سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے دستخط کیے ہیں اور مشترکہ طور پر اپنا مؤقف عدالت کے سامنے رکھا ہے۔
ذرائع کے مطابق یونس بلوچ اس سے قبل الیکشن کمیشن کے روبرو بلوچستان حکومت کی جانب سے انتخابات مؤخر کرنے کی درخواست کی مخالفت کر چکے ہیں، تاہم اب اس معاملے پر عدالتی فیصلے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے صوبے میں سیاسی فضا مزید سنجیدہ ہو گئی ہے، جبکہ عدالت کے فیصلے کے بعد انتخابی شیڈول اور حکومتی حکمتِ عملی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتخابات سے قبل تمام قانونی، انتظامی، سیکیورٹی اور موسمی چیلنجز کا مکمل جائزہ لیا جائے تاکہ صوبے میں شفاف اور قابلِ اعتماد انتخابی عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔






