تعلیم
کوئٹہ: حکومت بلوچستان نے صوبے میں تعلیمی پسماندگی کے خاتمے کے لیے اہم اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اقدامات آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاریوں کے دوران اعلیٰ سطحی اجلاس میں زیر بحث آئے جس کی صدارت وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کی۔
چیف سیکرٹری شکیل قادر خان نے بجٹ کے اہم نکات اور ترقیاتی پروگراموں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اس منصوبے کے تحت صوبائی حکومت آئندہ مالی سال میں 1,088 اسکولوں کو اپ گریڈ کرے گی، جن میں 679 پرائمری اسکول اور 409 مڈل اسکول شامل ہیں۔ حکام کا خیال ہے کہ اس اقدام سے گزشتہ 15 سال کی تعلیمی عدم مساوات ختم ہوگی۔
آؤٹ آف اسکول بچوں کی تعلیم یقینی بنانے کے لیے حکومت نے پانچ سالہ جامع پروگرام تجویز کیا ہے، جس کا مقصد اسکولوں تک رسائی بڑھانا، بنیادی سہولیات بہتر کرنا اور خاص طور پر پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں بچوں کی رجسٹریشن بڑھانا ہے۔
مزید برآں، طالبات کے لیے ماہانہ وظیفے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دیا جا سکے اور طالبات کی اسکول میں موجودگی اور تعلیمی جاری رکھنے کی شرح بہتر ہو۔
محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بلوچستان نے 174 ارب روپے کی لاگت سے 308 محکمانہ اسکیمات پر بھی بریفنگ دی، جو تعلیم، صحت اور بنیادی عوامی سہولیات کے شعبوں سے متعلق ہیں۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے زور دیا کہ تعلیمی اصلاحات حکومت کی اولین ترجیح ہیں اور ہر بچے تک اسکول کی رسائی یقینی بنانا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم میں سرمایہ کاری دراصل بلوچستان کے روشن مستقبل میں سرمایہ کاری ہے اور نوجوان نسل کے لیے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے تعلیمی سہولیات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ دور دراز علاقوں میں اسکولوں کی اپ گریڈیشن اہم ہے اور تمام متعلقہ اداروں کو مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا تاکہ تعلیمی شعبے میں پائیدار بہتری ممکن ہو۔







