کوئٹہ: حکومتِ بلوچستان نے صوبے بھر میں تعلیمی شعبے کو ضروری عوامی خدمت قرار دیتے ہوئے تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں چھ ماہ کے لیے ہڑتال اور تالہ بندی پر پابندی عائد کر دی۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اساتذہ اور تعلیمی عملے کی جانب سے کسی بھی قسم کی ہڑتال، اداروں کی بندش یا تدریسی سرگرمیوں میں رکاوٹ کو بلوچستان اسنشل ایجوکیشن سروسز ایکٹ 2019 کے تحت غیر قانونی تصور کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ طلبہ کے تعلیمی نقصان سے بچاؤ اور تدریسی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ یہ پابندی تمام سرکاری اور نجی اداروں پر فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور سزا سے متعلق دفعات پہلے ہی موجود ہیں۔
اس قانون کے سیکشن 6 کے تحت ہڑتال پر پابندی چھ ماہ تک برقرار رہے گی اور اس کا اطلاق تدریسی اور غیر تدریسی عملے دونوں پر ہوگا۔







