نیوز ڈیسک
کوئٹہ :میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا ایک خصوصی اجلاس بدھ کے روز کوئٹہ میں منعقد ہوا جس میں سرکاری اخراجات میں کمی، ایندھن کی بچت اور مالی وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے ایک جامع کفایت شعاری پیکج کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخېل ، اسپیکر صوبائی اسمبلی اور اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔
کابینہ اجلاس میں موجودہ عالمی اور علاقائی معاشی حالات کے تناظر میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت بلوچستان فوری طور پر اضافی کفایت شعاری مہم پر عمل درآمد یقینی بنائے گی تاکہ سرکاری اخراجات میں کمی اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔
800 غیر ضروری آسامیاں ختم
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس کو بتایا کہ کفایت شعاری مہم کا آغاز وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ سے کر دیا گیا ہے جہاں تقریباً 800 غیر ضروری آسامیاں ختم کر دی گئی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد انتظامی اخراجات میں نمایاں کمی لانا اور حکومتی وسائل کو عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کرنا ہے۔
تنخواہوں میں رضاکارانہ کٹوتی
کابینہ نے رضاکارانہ مالی تعاون کے تحت اہم فیصلے کرتے ہوئے طے کیا کہ:
تمام صوبائی وزراء، مشیران اور پارلیمانی سیکرٹریز دو ماہ کی تنخواہ وصول نہیں کریں گے۔
صوبائی اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں میں 25 فیصد رضاکارانہ کمی کی جائے گی۔
گریڈ 20 اور اس سے زائد کے وہ سرکاری افسران جن کی تنخواہ تین لاکھ روپے سے زیادہ ہے، دو دن کی تنخواہ رضاکارانہ طور پر جمع کروائیں گے۔
صحت اور تعلیم کے شعبوں میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کو اس کٹوتی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
سرکاری اخراجات کم کرنے کے اقدامات
کابینہ نے سرکاری اجلاسوں اور تقریبات کے حوالے سے نئے اصول متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا۔ آئندہ زیادہ تر سرکاری اجلاس ویڈیو رابطے کے ذریعے منعقد کیے جائیں گے تاکہ غیر ضروری سفر اور اخراجات سے بچا جا سکے۔
اس کے علاوہ:
غیر ملکی وفود کے علاوہ سرکاری ضیافتوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
سیمینار اور تربیتی پروگرام منعقد کرنے کے لیے پیشگی اجازت لازمی قرار دی گئی ہے۔
ایسے پروگرام صرف سرکاری عمارتوں یا آڈیٹوریم میں منعقد کیے جا سکیں گے۔
چار روزہ دفتری ہفتہ
کابینہ نے فیصلہ کیا کہ صوبے کے سرکاری دفاتر ہفتے میں چار دن کام کریں گے جبکہ بینکاری اور دیگر ضروری خدمات فراہم کرنے والے ادارے اس فیصلے سے مستثنیٰ ہوں گے۔
اس کے علاوہ:
سرکاری دفاتر میں پچاس فیصد عملہ باری باری گھر سے کام کرے گا۔
نجی شعبے کو بھی چار روزہ دفتری ہفتہ اپنانے اور نصف عملے سے گھر سے کام لینے کی تجویز دی گئی ہے۔
تعلیمی اداروں میں بہار کی تعطیلات
کابینہ نے فیصلہ کیا کہ صوبے کے تمام اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں 23 مارچ 2026 تک بہار کی تعطیلات دی جائیں گی۔ تاہم امتحانات اپنے پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری رہیں گے۔
شادی بیاہ اور ٹریفک سے متعلق ہدایات
اجلاس میں سماجی تقریبات کے حوالے سے رہنما اصول طے کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ:
شادی بیاہ کی تقریبات میں مہمانوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ 200 افراد تک محدود ہوگی۔
تقریبات میں صرف ایک کھانا پیش کرنے کی اجازت ہوگی۔
اسی طرح ایندھن کی بچت کے پیش نظر شاہراہوں پر گاڑیوں کی رفتار 65 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ اور گورنر کا مؤقف
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ مشکل معاشی حالات میں حکومت خود کفایت شعاری کی مثال قائم کر رہی ہے تاکہ وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں عوامی فلاح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جا سکے۔ انہوں نے سرکاری اداروں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ توانائی اور وسائل کے تحفظ کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
اس موقع پر گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے صوبائی حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں وسائل کے محتاط اور ذمہ دارانہ استعمال کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس فیصلے سے دیگر ادارے اور عوام بھی کفایت شعاری کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں گے اور معیشت کے استحکام میں مدد ملے گی۔







