نیوز ڈیسک
کوئٹہ: بلوچستان میں سائبر کرائمز اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کے قوانین کے دائرہ اختیار میں آنے والے قابلِ گرفت جرائم کی مؤثر روک تھام کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کا دائرہ کار صوبے میں ڈویژن سطح تک توسیع دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس مقصد کے لیے بلوچستان حکومت نے ایف آئی اے کے دفاتر کے قیام اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے اراضی فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ یہ فیصلہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں سائبر کرائمز، مالیاتی جرائم اور دیگر وفاقی نوعیت کے جرائم کی روک تھام کے لیے ادارہ جاتی استعداد بڑھانے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے زور دیا کہ ڈیجیٹل دور میں بڑھتے ہوئے سائبر جرائم کے پیش نظر ایف آئی اے کے ڈھانچے کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔
فیصلہ کیا گیا کہ صوبے کے مختلف ڈویژنز میں ایف آئی اے کے دفاتر قائم کیے جائیں گے تاکہ شہریوں کو مقامی سطح پر شکایات درج کرنے اور جرائم کے ازالے کی مؤثر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
اجلاس میں ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام خان مندوخیل کی کارکردگی کو سراہا گیا اور ادارے میں استعداد بڑھانے کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ بلوچستان کے مقامی افراد کو بھرتی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تاکہ ادارے کی کارکردگی بہتر ہو اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔
شرکاء نے وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان مؤثر تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا اور کہا کہ بلوچستان میں قانون کی عملداری کو یقینی بنانے اور سائبر کرائمز سمیت دیگر جرائم کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔







