کوئٹہ کے شہریوں نے حالیہ دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے نمایاں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پاکستان کی تاریخ کے بڑے اضافوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام پر مزید مالی دباؤ پڑے گا۔
شہریوں نے اچانک قیمتوں میں اضافے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اطلاعات کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ کئی ہفتوں سے موجود تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پہلے سے مناسب مقدار میں ذخائر موجود تھے تو قیمتوں میں اس قدر اچانک اضافہ عوام کے لیے تشویش اور الجھن کا باعث بن گیا ہے۔ شہریوں کے مطابق اس فیصلے نے ایندھن کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ عوام پہلے ہی بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
صوبائی دارالحکومت میں گاڑیوں کے مالکان اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد نے بھی اس اضافے پر سخت ردعمل دیا اور کہا کہ اس کے اثرات براہِ راست ان کی روزی روٹی اور عام لوگوں کی روزمرہ زندگی پر پڑیں گے۔ کوئٹہ کے ٹیکسی ڈرائیور عبدالرحمان نے کہا کہ پیٹرول مہنگا ہونے کے بعد ٹرانسپورٹرز کے پاس کرایوں میں اضافہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ ان کے مطابق جب کرایوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا بوجھ بالآخر مسافروں اور روزانہ سفر کرنے والے افراد پر پڑتا ہے۔
ایک اور گاڑی کے مالک نصیر احمد، جو ایک چھوٹی ڈلیوری وین چلاتے ہیں، نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافے کا باعث بنتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ٹرانسپورٹ مہنگی ہو جاتی ہے تو سبزیوں، آٹے اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔
اسی طرح رکشہ ڈرائیور حاجی کریم بلوچ نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے اور متوسط طبقے پر پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غریب اور متوسط طبقہ پہلے ہی گھریلو اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے اور پیٹرول مہنگا ہونے سے ان کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ٹرانسپورٹ اور اشیاء کی ترسیل کے اخراجات میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ اضافے کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں مختلف اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے، جس سے عام شہریوں اور چھوٹے کاروباروں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔







