اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بلوچستان کی تاریخی اور آئینی حیثیت سے متعلق بیان دے کر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

اپنی پوسٹ میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ 27 مارچ 1948 کو ہونے والے معاہدے میں بلوچستان ایک مکمل اکائی کے طور پر شامل نہیں تھا۔ ان کے مطابق بلوچستان کے ساتھ کوئی باقاعدہ معاہدہ اس لیے نہیں ہوا کیونکہ 1970 سے قبل بلوچستان بطور صوبہ موجود ہی نہیں تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 1970 میں جنرل یحییٰ خان کی حکومت کے دوران بلوچستان کو صوبے کا درجہ دیا گیا، جو پاکستان کے کل رقبے کے تقریباً 42 فیصد حصے پر مشتمل تھا، تاہم اس وقت اس خطے کو آبادی کے تناسب سے مناسب انتخابی نمائندگی حاصل نہیں تھی۔

سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس معاملے کا حل اب بھی ممکن ہے، جس کے لیے علاقے کو اس کی اصل آئینی حیثیت میں بحال کر کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) میں منصفانہ حصہ دیا جانا چاہیے۔

فواد چوہدری کے اس بیان کے بعد بلوچستان کی سیاسی تاریخ، صوبائی حقوق اور وسائل کی منصفانہ تقسیم سے متعلق مباحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

About the Author

Quetta Voice is an English Daily covering all unfolding political, economic and social issues relating to Balochistan, Pakistan's largest province in terms of area. QV's main focus is on stories related to education, promotion of quality education and publishing reports about out of school children in the province. QV has also a vigilant eye on health, climate change and other key sectors.