سٹاف رپورٹر:

کوئٹہ: بلوچستان بھر میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ صوبے میں علاج کی سہولیات مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق کوئٹہ میں پاکستان اٹامک انرجی کے زیرِ انتظام سینار کینسر اسپتال میں 2024 کے دوران تقریباً 10 ہزار مریضوں کا اندراج ہوا، تاہم اگلے ہی سال یہ تعداد بڑھ کر 22 ہزار تک پہنچ گئی، جو کہ تقریباً 100 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

ماہرینِ طب کے مطابق صوبے میں زیادہ تر مریض چھاتی کے کینسر، چھوٹی اور بڑی آنت کے سرطان، اور خون کے کینسر میں مبتلا ہیں۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ 70 سے 80 فیصد مریض کینسر کی آخری اسٹیج میں اسپتال پہنچتے ہیں، جس سے علاج کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں۔

بلوچستان میں اس وقت سینار کینسر اسپتال واحد فعال ادارہ ہے جہاں کینسر کا علاج کیا جا رہا ہے۔ چند برس قبل شیخ زید اسپتال کوئٹہ کے احاطے میں تعمیر کیا گیا کینسر اسپتال تاحال فعال نہ ہو سکا، جس کے باعث دور دراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر سے بچاؤ کے لیے صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا، صاف ماحول اور سب سے بڑھ کر بروقت تشخیص اور باقاعدہ طبی معائنہ ناگزیر ہے۔

کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز نے حکومت اور متعلقہ اداروں کی فوری توجہ کا تقاضا کیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

About the Author

Quetta Voice is an English Daily covering all unfolding political, economic and social issues relating to Balochistan, Pakistan's largest province in terms of area. QV's main focus is on stories related to education, promotion of quality education and publishing reports about out of school children in the province. QV has also a vigilant eye on health, climate change and other key sectors.