بلوچستان: بلوچستان لبریشن آرمی کے حملے کے بعد سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر صوبے کے مختلف علاقوں میں چوتھے روز بھی انٹرنیٹ سروس معطل رہی، جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
حکام کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے باعث بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان ٹرین سروس بھی معطل کر دی گئی ہے، جس سے سینکڑوں مسافر متاثر ہوئے جبکہ سفری اور تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔
کوئٹہ میں اہم سرکاری دفاتر اور حساس تنصیبات کے اطراف اندرونی سڑکیں بند کر دی گئیں۔ مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کر کے آمد و رفت محدود کی گئی، جبکہ شہر بھر میں سیکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
انٹرنیٹ کی طویل بندش سے طلبہ، صحافیوں، آن لائن کاروبار سے وابستہ افراد اور عام شہری شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ موبائل ڈیٹا اور براڈ بینڈ سروسز متعدد علاقوں میں بدستور بند ہیں، جس پر عوامی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی کے حملے کے بعد عوامی تحفظ اور امن و امان کی بحالی کے لیے یہ اقدامات ناگزیر ہیں، تاہم انٹرنیٹ، ٹرین سروس اور ٹریفک کی بحالی کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی وقت نہیں بتایا گیا۔







