Chief Minister Balochistan, Mir Sarfaraz Bugti addressing the session of the assembly: Photo provided by DGPR

اسٹاف رپورٹر

کوئٹہ— وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے صوبائی بجٹ اور اصلاحاتی ایجنڈے کے بارے میں واضح موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران حکومت نے سرکاری ملازمتوں کے نظام میں اصلاحات کی ہیں جس کے تحت تقریباً 8,000 غیر ضروری سرکاری آسامیاں ختم کی گئی ہیں تاکہ بجٹ کے وسائل عوامی فلاح و ترقی پر استعمال ہوں۔

وزیراعلیٰ نے اپنے بیان میں بتایا کہ بلوچستان کا سالانہ بجٹ تقریباً ایک ہزار ارب روپے ہے، جس میں سے 80 فیصد سے زائد غیر ترقیاتی اخراجات یعنی سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن پر خرچ ہوتا ہے۔ اس غیر متوازن مالی ڈھانچے کو درست کرنے کے لیے متعدد غیر مؤثر اور غیر ضروری دفاتر بند کیے گئے اور غیر حاضر ملازمین کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی گئی ہے۔

ان اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ صوبے کے محدود مالی وسائل کو عوام کی فلاح و بہبود، بنیادی سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں میں صرف کیا جائے تاکہ بلوچستان کے عوام کے حقیقی مفادات کو ترجیح دی جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

About the Author

Quetta Voice is an English Daily covering all unfolding political, economic and social issues relating to Balochistan, Pakistan's largest province in terms of area. QV's main focus is on stories related to education, promotion of quality education and publishing reports about out of school children in the province. QV has also a vigilant eye on health, climate change and other key sectors.