اسلام آباد کی ضلعی و سیشن عدالت نے ہفتے کے روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سوہیل آفریدی کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ یہ کارروائی اس کیس کے سلسلے میں ہوئی جس میں ان پر ریاستی اداروں کے خلاف گمراہ کُن بیانات دینے اور ان کی ساکھ متاثر کرنے کا الزام ہے۔
سینئر سول جج عباس شاہ نے سماعت کے دوران آفریدی کی عدم حاضری پر وارنٹ جاری کیے۔ یہ مقدمہ نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے تحت درج کیا، جو پاکستان میں سائبر جرائم اور الیکٹرانک جرائم سے متعلق اہم قانون سمجھا جاتا ہے۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ سوهیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے، جبکہ کیس کی سماعت 17 جنوری تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سوهیل آفریدی پاکستان تحریک انصاف کی ملک گیر تحریک کو سندھ تک بڑھانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ پنجاب کے دورے کے بعد انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو احتجاجی خط بھی بھیجا، جبکہ وہ 9 جنوری کو کراچی کا دورہ بھی کریں گے۔
پی ٹی آئی نے یہ تحریک اس وقت شروع کی جب پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو توہفہ خانہ کیس میں 17 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ عمران خان نے سوهیل آفریدی کو ہدایت کی ہے کہ وہ 8 فروری کے لیے طاقت کے بڑے عوامی مظاہرے کی فضا ہموار کریں۔







