نمائندہ خصوصی :
29 دسمبر:
وزیرِاعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے پیر کے روز بگٹی قبیلے کے آٹھویں چیف آف بگٹی کے طور پر ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ تاریخی حوالوں کے مطابق یہ لقب سب سے پہلے ان کے دادا کو سنہ 1800ء میں دیا گیا تھا، جو بگٹی قبائل میں قیادت اور منظم قبائلی نظام کی دیرینہ روایت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
دستار بندی کی یہ تقریب ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے بیکڑ میں منعقد ہوئی، جہاں بگٹی قبیلے کے تمام سرکردہ وڈیرے، معتبرین اور معزز شخصیات بڑی تعداد میں شریک ہوئیں۔ تقریب کے دوران میر سرفراز بگٹی کو روایتی انداز میں Chief of Buggti’s کی دستار پہنائی گئی۔ نواب بگٹی خاندان کے افراد بھی اس موقع پر موجود تھے، جن میں نوابزادہ زامران سلیم اکبر بگٹی نمایاں تھے۔
قبائلی روایت کے مطابق منعقد ہونے والی اس تقریب میں مختلف ذیلی قبائل کے وڈیرے بھی شریک ہوئے، جن میں غلام نبی شمبانی بگٹی (شمبانی قبیلہ)، جلال کلپر بگٹی (کلپر قبیلہ)، محمد بخش موندرانی بگٹی (موندرانی قبیلہ)، میر گل پیروزانی بگٹی (پیروزانی قبیلہ)، بہار خان نوتھانی بگٹی (نوتھانی قبیلہ) اور منظور ڈومب بگٹی (ڈومب قبیلہ) شامل تھے۔
میر سرفراز احمد بگٹی یکم جون 1980 کو بیکڑ (ضلع ڈیرہ بگٹی) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی جبکہ گریجویشن لارنس کالج مری سے کی۔ سیاسی سفر کے دوران وہ 2013 میں بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور وزیر داخلہ، وزیر قبائلی امور، وزیر جیل خانہ جات اور چیئرمین پی ڈی ایم اے کے طور پر خدمات انجام دیں۔
2018 سے 2023 تک وہ سینیٹ آف پاکستان کے رکن رہے اور مختلف اہم کمیٹیوں میں کردار ادا کیا۔ اگست سے دسمبر 2023 تک انہوں نے وفاقی نگران کابینہ میں شمولیت اختیار کی اور نگران وزیر داخلہ کے ساتھ ساتھ انسدادِ منشیات، سمندر پار پاکستانیوں، انسانی وسائل کی ترقی اور انسانی حقوق کے محکمے سنبھالے۔ مارچ 2024 سے وہ وزیرِاعلیٰ بلوچستان کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
میر سرفراز احمد بگٹی کو بگٹی قبائل کی قیادت اور بلوچستان کی ترقی میں تاریخی و جدید کردار ادا کرنے والی ایک اہم شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے






