نیوز ڈیسک: بلوچستان اسمبلی نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی منظم کردار کشی کی مہم کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے منتخب نمائندوں کے خلاف منفی پروپیگنڈے کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔
ایوان میں اس بات پر بھی تفصیلی بحث ہوئی کہ صوبائی وزرا اور اراکینِ صوبائی اسمبلی کے خلاف مبینہ کرپشن سے متعلق خبریں اور مواد سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں، جس پر اراکین نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ارکان اسمبلی نے ان الزامات کو بغیر ثبوت اور منظم مہم کا حصہ قرار دیا۔
یہ معاملہ قائد حزبِ اختلاف یونس زہری نے ایوان میں اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ احتساب ایک مثبت عمل ہے، تاہم سوشل میڈیا کے ذریعے بغیر تحقیق اور تصدیق کے الزامات لگا کر اراکین اسمبلی کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔ مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین نے ان خیالات کی تائید کرتے ہوئے وائرل مواد کو گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیا۔
اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق اچکزئی نے واضح اور دوٹوک رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کردار کشی اور بلیک میلنگ کے سامنے نہیں جھکے گی۔ انہوں نے سائبر کرائم ڈیپارٹمنٹ کو طلب کرنے اور اس منفی مہم میں ملوث عناصر کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی ہدایت جاری کی۔
اراکین اسمبلی نے کہا کہ شفافیت اور احتساب قابلِ قبول ہیں، مگر بغیر ثبوت مبینہ کرپشن کی کہانیاں پھیلانا ناقابلِ برداشت ہے۔ انہوں نے جعلی، نامعلوم اور گمراہ کن سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا جو مبینہ طور پر ریاست مخالف اور ہتک آمیز مہم میں ملوث ہیں۔
اسپیکر نے کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کو دہراتے ہوئے کہا کہ ثبوت کے بغیر الزامات قبول نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ سائبر کرائم ونگ کی جانب سے ابتدائی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور متعلقہ قوانین بشمول سیکشن 20 اور 26-اے کے تحت مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔
ایوان نے متفقہ طور پر اس کردار کشی کی مہم کی شدید مذمت کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ اس بار محض بیانات تک محدود نہیں رہا جائے گا بلکہ ملوث عناصر کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔






