نیوز ڈیسک: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے بدھ کے روز بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی بلدیاتی انتخابات مؤخر کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح کردیا کہ کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات 28 دسمبر کو ہی ہوں گے۔
وزیرِ اعلیٰ بگٹی نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ کوئٹہ کی امن و امان کی صورتحال، انٹرنیٹ سروس کی معطلی، سخت موسم اور انتظامی تیاریوں کے باعث انتخابات کو مؤخر کیا جائے۔ تاہم ای سی پی نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ یہ درخواست ’’غیر مؤثر‘‘ ہے اور انتخابات ملتوی کرنے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔
فیصلے کے مطابق، ای سی پی نے واضح کیا کہ حلقہ بندی کا تمام قانونی عمل مکمل ہوچکا ہے، جس میں ابتدائی فہرستوں کی اشاعت، اعتراضات کی سماعت اور حتمی حلقہ بندی شامل ہے۔ کمیشن نے اس سلسلے میں بلوچستان ہائی کورٹ کے اُس فیصلے کا بھی حوالہ دیا جس میں انتخابات جلد از جلد کروانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
چھ رکنی کمیشن نے اکثریتی فیصلے کے ذریعے انتخابات وقت پر کرانے کا حکم دیا، جبکہ ایک رکن شاہ محمد جتوئی نے اختلافی نوٹ میں سخت موسم اور صوبے کی سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر انتخابات مؤخر کرنے کی رائے دی۔
ای سی پی نے حکومتِ بلوچستان کو ہدایت کی کہ وہ انتخابات کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے اور فول پروف سیکیورٹی انتظامات یقینی بنائے تاکہ ووٹرز، امیدواروں، پولنگ اسٹاف اور عوام کی حفاظت برقرار رہے۔ کمیشن نے یہ بھی بتایا کہ بیلٹ پیپرز کی طباعت کا عمل شروع ہوچکا ہے، اس لیے تاخیر اب ممکن نہیں۔
ای سی پی کے مطابق بلدیاتی اداروں کی مدت کا تعین غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ میونسپل کمیٹیوں اور کارپوریشنوں کے اراکین نے 9 فروری 2023 کو حلف اٹھایا تھا، جس کے مطابق ان کی مدت فروری 2027 میں مکمل ہوگی۔ جبکہ ڈسٹرکٹ کونسل کے اراکین کی مدت جولائی 2027 میں ختم ہوگی۔
کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات طویل عرصہ سے مختلف قانونی اور انتظامی تنازعات کے باعث مؤخر ہوتے رہے۔ اب تمام رکاوٹیں ختم ہونے کے بعد ای سی پی نے اعلان کیا ہے کہ مزید تاخیر ممکن نہیں۔
انتخابات 172 یونین کونسلز اور 641 وارڈز میں ہوں گے جن میں 2,710 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ سابقہ لوکل باڈیز کی مدت 2019 میں ختم ہوگئی تھی، جس کے بعد سے انتخابات مسلسل تعطل کا شکار تھے۔
28 دسمبر کو ہونے والے یہ انتخابات کوئٹہ میں بلدیاتی نظام کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیے جارہے ہیں۔






