سٹاف رپورٹر:
کوئٹہ: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) کے اجلاس میں بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں میں ہونے والی مالی بے ضابطگیوں، تاخیر اور اضافی ادائیگیوں کے انکشافات نے اراکین کو حیران کر دیا، جبکہ کمیٹی نے اربوں روپے کے اس “بندر بانٹ” طرز عمل پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی صدارت میں ہوا، جس میں اراکین زابد علی ریکی، فضل قادر مندوخیل، غلام دستگیر بادینی، صفیہ بی بی، سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری پی ایچ ای ہاشم غلزئی، ڈی جی آڈٹ شجاع علی، ایڈیشنل اکاؤنٹنٹ جنرل نورالحق اور دیگر حکام شریک تھے۔
منگی ڈیم — منصوبہ تاخیر اور لاگت میں ’عجیب و غریب اضافہ‘
اجلاس کو بتایا گیا کہ منگی ڈیم، جسے 2022 میں مکمل ہونا تھا، اب 2026 تک چلے جانے کی توقع ہے، جبکہ اس کی لاگت 42 فیصد اضافے کے بعد 9 ارب سے بڑھ کر تقریباً 20 ارب روپے تک جا پہنچی ہے۔
آڈٹ حکام کے مطابق یہ اضافی لاگت ناقص منصوبہ بندی، غلط ڈیزائن، غیر ضروری اضافی کام اور مسلسل تاخیر کا نتیجہ ہے۔
کمیٹی نے اس صورتحال کو “منیجمنٹ کی ناکامی اور مالی بدانتظامی کا واضح ثبوت” قرار دیتے ہوئے سخت اقدامات کی ہدایت کی۔
سولر سسٹمز میں اضافی ادائیگیاں — 64 ملین روپے کا نقصان
آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ 2019 تا 2022 کے دوران مختلف ڈویژنز نے ضرورت سے زیادہ واٹیج اور زائد مقدار کے سولر آلات خرید کر خزانے کو 64.131 ملین روپے کا نقصان پہنچایا۔
کمیٹی نے حکم دیا کہ یہ رقم فوری طور پر ریکور کی جائے اور چوری یا غیر فعال ہونے والے سولر سسٹمز کے معاملے پر متعلقہ افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔
ٹینکروں کے ذریعے پانی کی سپلائی — تقریباً 1 ارب روپے کے مشکوک اخراجات
آڈٹ نے رپورٹ کیا کہ 2018–19 میں گوادر اور لسبیلہ میں واٹر ٹینکروں کے ذریعے پانی کی فراہمی پر 975.816 ملین روپے خرچ کیے گئے، جن میں سے 956.989 ملین صرف گوادر میں خرچ ہوئے۔
تاہم کمیٹی کو نہ:
- ڈلیوری شیڈول
- تصدیقی رپورٹس
- مکمل ریکارڈ
- اور نہ ہی MB
مہیا کیا گیا۔
کمیٹی نے خبردار کیا کہ اگلے اجلاس تک مکمل ریکارڈ نہ آیا تو معاملہ نیب کو بھجوایا جائے گا۔






