اسلام آباد: کراچی، کوئٹہ اور چمن کو ملانے والی اہم قومی شاہراہ این-25 پر تعمیراتی کام باضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے، جس سے بلوچستان کی طویل عرصے سے نظرانداز سڑکوں کی اپ گریڈیشن میں تیزی آ گئی ہے۔
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ بلوچستان میں پاکستان ایکسپریس وے کے 800 کلومیٹر طویل حصے پر بھی تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم نے رواں سال اس میگا شاہراہ منصوبے کا اعلان کیا تھا، اور اس کی تکمیل صوبے کے معاشی مستقبل کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ خضدار سے مستونگ تک N-25 پر کام مسلسل جاری ہے، جبکہ پاکستان ایکسپریس وے کی تکمیل بلوچستان کے لیے ایک "بڑے بریک تھرو” کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جو صوبے کو قومی اور علاقائی تجارت کے نئے مواقع فراہم کرے گی۔
اجلاس میں گوادر، کھپرو، کوسٹل ہائی وے اور دیگر اہم شاہراہوں سے متعلق پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ بلوچستان کے تمام روڈ سیکٹر منصوبوں کو زیادہ رفتار اور معیار کے ساتھ مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آ سکیں۔
شاہراہوں کی تعمیر سے متعلق سیکورٹی، رسد اور دیگر تکنیکی امور پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی، جبکہ چیئرمین این ایچ اے اور متعلقہ سینئر افسران نے صوبے میں جاری منصوبوں پر جامع بریفنگ پیش کی۔






