سٹاف رپورٹر: کوئٹہ، 04 دسمبر
بلوچستان حکومت نے بیرونِ ملک سرگرم کالعدم گروہوں کے سربراہان، کمانڈرز اور تین سو سے زائد شدت پسندوں کے خلاف گھیرا مزید سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
صوبائی حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ کالعدم بی ایل اے، بی ایل ایف، یو بی اے، بی آر جی اور لشکرِ بلوچستان کے خلاف درج مقدمات کی پیروی کی رفتار بڑھائی جائے۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وفاقی وزارتِ داخلہ و خارجہ کے تعاون سے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹسز کے اجرا کا عمل تیز کیا جائے۔
دہشت گردی میں ملوث مقامی سہولت کاروں سے لے کر بیرونِ ملک بیٹھے کمانڈرز تک، Provincial Action Plan کی رہنمائی کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف غیر معمولی اقدامات کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بیرونِ ملک موجود دہشت گرد قیادت کے مقامی رابطوں، کال ریکارڈنگز اور دیگر شواہد پیش کیے۔
فیصلہ کیا گیا کہ بیرونِ ملک موجود کمانڈرز اور ان کے مقامی ساتھیوں کے خلاف فوری اور جارحانہ کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی میں ملوث ہر اندرونی و بیرونی عنصر کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کا امن برباد کرنے والوں کو دنیا کے کسی حصے میں چھپنے نہیں دیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیاسی لبادے میں سرگرم کالعدم گروہوں کے بیرونِ ملک بیٹھے رہنماؤں کا اصل چہرہ دنیا پر آشکار کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
انسدادِ دہشت گردی کے نئے قوانین کے تحت کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئیں۔
محکمہ داخلہ کو ہدایت کی گئی کہ Provincial Action Plan کے تحت قائم سیل کو مکمل طور پر فعال کیا جائے۔
تمام کالعدم تنظیموں کے سربراہوں اور سہولت کاروں کی تفصیلی فہرست مرتب کر کے موجود شواہد ریکارڈ کا حصہ بنائے جائیں۔
حکومت نے طے کیا ہے کہ یہ مواد وفاق کے تعاون سے عالمی فورمز پر پیش کر کے بھرپور قانونی کارروائیاں شروع کی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف فیصلہ کن مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہشت گرد سرگرمیوں کے پیچھے چھپے غیر ملکی مقاصد اب بے نقاب ہو رہے ہیں اور بلوچستان کسی بیرونی ایجنڈے کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ریاستِ پاکستان اور بلوچستان کے دشمنوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی اور آخری سہولت کار تک کارروائی جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے امن، شہریوں کی سلامتی اور ریاستی وقار پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں







