سٹاف رپورٹر: کوئٹہ، 03 دسمبر 2025:
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی سربراہی میں کاؤنٹر ٹیررازم پروانشل ہارڈن دی اسٹیٹ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس بدھ کے روز چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس میں صوبے میں امن و امان کی مجموعی کیفیت، جاری سیکیورٹی اقدامات اور نیشنل و پروانشل ایکشن کمیٹیوں کے مقررہ اہداف کا جامع جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں چیف سیکرٹری شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات سمیت متعلقہ سیکیورٹی اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف مربوط کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے کے شمالی حصوں میں 100 دہشت گردوں کو ناکارہ بنایا جا چکا ہے، جبکہ ضلع کچھی میں 200 سے زائد آپریشن کیے گئے۔ دیگر اضلاع میں بھی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری ہیں۔
اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ صوبے میں 3561 غیر قانونی پیٹرول پمپس کو سیل کیا گیا، جب کہ کسٹم حکام نے تین ماہ کے دوران 2575 کارروائیاں کرتے ہوئے 416 نان کسٹم پیڈ گاڑیاں ضبط کی ہیں۔ مدارس کی رجسٹریشن اور طے شدہ ضوابط پر عملدرآمد بھی تیزی سے جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے امن و امان کی صورتِ حال میں بہتری اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ریاستی رٹ ہر قیمت پر قائم رکھی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ آپریشنز کی رفتار مزید بڑھائی جائے اور کسی بھی سطح پر نرمی نہ برتی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ نیشنل اور پروانشل ایکشن کمیٹیوں کے فیصلوں پر پوری سنجیدگی، مستقل مزاجی اور ذمے داری کے ساتھ عملدرآمد حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ قانون شکن عناصر کے خلاف بلا امتیاز اور بھرپور کارروائی ناگزیر ہے، اور صوبے میں جرائم، لاقانونیت اور بدامنی کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کے ہر شہری کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور حکومت امن کے قیام اور ترقی کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی






