کوئٹہ:
کوئٹہ میں شہری ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے 21 نئی بسوں کا اضافہ کیا جارہا ہے، جن میں 17 گرین بسیں اور 5 پنک بسیں شامل ہیں، جبکہ 4 نئی بسیں تربت کے لیے مختص کی گئی ہیں۔ یہ فیصلہ کوئٹہ ڈویژن کے کمشنر شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں کیا گیا جس میں کوئٹہ ڈسٹرکٹ کی پی ایس ڈی پی میں شامل 114 نئی ترقیاتی اسکیمات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی، ڈویژنل ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ ظہور احمد اور زراعت، کالجز، ثقافت، آبپاشی، ماحولیات، لیبر، لوکل گورنمنٹ، اقلیتی امور، توانائی، پرائمری ایجوکیشن، پی ایچ ای، ٹرانسپورٹ، کیو ڈی اے اور واسا سمیت مختلف محکموں کے افسران شریک ہوئے۔
اجلاس کی اہم کارروائی
محکموں نے کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے ٹینڈرنگ کے عمل، فنڈز کے اجراء اور درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ کمشنر شاہزیب خان کاکڑ نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے اور تمام اسکیمات کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جو منصوبے تعطل کا شکار ہیں، ان کے مسائل فوری حل کرکے انہیں دوبارہ فعال بنایا جائے۔
پانی سے متعلق اسکیموں کے نئے قواعد
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پینے کے پانی اور واٹر سپلائی سے متعلق تمام اسکیموں کے لیے ڈسٹرکٹ واٹر کمیٹی سے منظوری لینا لازمی ہوگی۔ کمیٹی کی اجازت کے بغیر کوئی بھی پانی سے متعلق پی ایس ڈی پی اسکیم شروع نہیں کی جائے گی۔
صحت، تعلیم اور سڑکوں پر خصوصی توجہ
اجلاس کے دوران صحت، تعلیم اور صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ سڑکوں سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں کی رفتار مزید تیز کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ کمشنر نے ڈپلیکیٹ اسکیموں کے خاتمے اور اجتماعی نوعیت کے منصوبوں کی بروقت تکمیل پر بھی زور دیا۔
ٹرانسپورٹ میں بڑی پیش رفت
محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے بتایا گیا کہ گرین بس سروس اور پبلک ٹرانسپورٹ منصوبے کے تحت 21 نئی بسوں کا اضافہ کیا جارہا ہے جن میں 17 گرین، 5 پنک اور 4 تربت کے لیے مختص ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ شہر میں الیکٹرک وہیکلز اور پیپلز ٹرین سروس کی منصوبہ بندی پر بھی عملدرآمد شروع کردیا گیا ہے۔
غیر حاضری پر سخت ناراضگی
کمشنر کوئٹہ نے اجلاس میں شریک نہ ہونے والے متعلقہ محکموں کے افسران پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ان کے سیکرٹریز کو خط لکھ کر وجہ پوچھی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مفاد کے منصوبے حکومت کی اولین ترجیح ہیں اور کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔







