سٹاف رپورٹر:
بلوچستان ہائیکورٹ میں سردار اختر جان مینگل کا نام نو فلائی لسٹ سے نہ ہٹانے کے معاملے پر توہینِ عدالت کی درخواست کی اہم سماعت ہوئی۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ کے مفصل دلائل کے بعد عدالت نے وفاقی سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے کو آئندہ پیر تک اپنے افیڈیویٹس جمع کرانے کی ہدایت جاری کر دی۔
عدالت نے واضح طور پر حکم دیا کہ اگر پیر تک عدالتی فیصلے پر مکمل عمل درآمد نہ ہوا، اور سردار اختر جان مینگل کا نام نو فلائی لسٹ سے خارج نہ کیا گیا، تو دونوں سرکاری افسران کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔
سماعت کے دوران آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، جمیل رمضان ایڈووکیٹ اور دیگر وکلا بھی موجود تھے۔ کیس کی سماعت جسٹس گل حسن ترین اور جسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل بنچ نے کی۔
سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ساجد ترین ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے سیاسی قیادت کو ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے سے نہیں دبایا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ریاستی ادارے عدالتی احکامات کا احترام نہیں کریں گے تو پھر یہ صورتحال جنگل کے قانون کی سی لگنے لگتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عدالت کے اندر اور باہر ہر صورت میں ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے







