کوئٹہ: کوئٹہ میں سردیوں کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی شہری کم گیس پریشر اور غیر اعلانیہ گیس لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ گھروں کو گرم رکھنا اور کھانا پکانا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے، جس سے شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
سریاب، سیٹلائٹ ٹاؤن، نوا کلی، جناح ٹاؤن اور بریوری روڈ سمیت دیگر علاقوں میں گھروں میں ہیٹر اور گیزر چلانے کے لیے گیس پریشر ناکافی بتایا گیا ہے۔ کئی خاندان مہنگے متبادل ذرائع جیسے ایل پی جی سلنڈر اور لکڑی پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں، جس سے صبح کے وقت کھانا پکانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
شہریوں کی تشویش اس بات سے بڑھ گئی ہے کہ گیس کی بندشیں غیر شیڈول اور بغیر اطلاع کے ہیں، جس سے لوگوں کو نہیں معلوم کہ گیس کب دستیاب ہوگی۔ ماہانہ بل ادا کرنے کے باوجود شہری ہر سال سردیوں میں بار بار گیس کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں اور سوئی سدرن گیس کمپنی یا متعلقہ حکام کی طرف سے کوئی دیرپا حل فراہم نہیں کیا گیا۔
سرد موسم کے اثرات کی وجہ سے زکام، نمونیا، سانس کے انفیکشن اور وائرل بخار میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کو متاثر کر رہا ہے۔ سرکاری اور نجی اسپتالوں کے ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ سردیوں سے متعلقہ بیماریوں کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے اور خبردار کرتے ہیں کہ گھروں میں مناسب حرارت نہ ہونے کی صورت میں صحت کے مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
مقامی کارکنان اور کمیونٹی رہنما حکام کی جانب سے سخت تنقید کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر سال کوئٹہ کو یہی بحران درپیش ہوتا ہے، مگر کوئی بنیادی بہتری نہیں کی جاتی۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وفاقی حکومت اور فوری اقدامات کریں تاکہ اہم سردی کے اوقات میں مسلسل گیس کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
فی الحال، کوئٹہ کے شہری سخت سردی، محدود حرارتی سہولیات اور بڑھتے ہوئے طبی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، جو شہر میں مستقل اور بلا تعطل گیس سپلائی کی فوری ضرورت کو واضح کرتا ہے۔







