کوئٹہ: بدھ کے روز بلوچستان میں سیاسی بے چینی میں اضافہ ہو گیا جب پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر دوستین خان ڈومکی نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ وزیرِاعلیٰ میر ثرفراز بگٹی کو جلد تبدیل کیا جائے گا، جس کے بعد صوبائی اتحاد میں ایک بار پھر سخت بیانات کا تبادلہ ہوا۔
سینیٹر ڈومکی نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیرِاعلیٰ امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اہم شاہراہیں غیر محفوظ ہیں، شہری حملوں کا شکار ہو رہے ہیں، سرحدی مقامات بار بار بند ہوتے ہیں، اور انٹرنیٹ کی بندش معمول بن چکی ہے۔ ڈومکی نے وزیرِاعلیٰ پر بدعنوانی کے سنگین الزامات بھی لگائے اور کہا کہ قیادت میں تبدیلی عوامی اعتماد بحال کرنے اور انتظامی نظم و ضبط قائم رکھنے کے لیے ناگزیر ہو گئی ہے۔
ان کے بیانات نے صوبے میں سیاسی بحث کو مزید تیز کر دیا اور اتحاد میں ممکنہ دراڑوں سے متعلق قیاس آرائیوں کو بڑھا دیا۔
جوابی ردعمل میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر میر محمد صادق عمرانی نے ڈومکی کے دعووں کو بے بنیاد اور سیاسی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ عمرانی نے کہا کہ وزیرِاعلیٰ ثرفراز بگٹی کو تمام اتحادی جماعتوں بشمول پیپلز پارٹی کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔
عمرانی نے کہا کہ اگر سینیٹر ڈومکی کو کوئی تحفظات ہیں تو انہیں اپنی جماعت کے اندر حل کرنا چاہیے اور مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت سے مشاورت کرنی چاہیے، نہ کہ عوامی سطح پر الزامات لگائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ صوبائی وزرائے اعلیٰ میں اچانک تبدیلیاں جمہوری استحکام اور حکومتی کارکردگی کے لیے نقصان دہ ہیں۔
عمرانی نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی لیاقت لہڑی نے مسلسل جماعتی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی ہے اور یہ معاملہ جلد پارٹی قیادت کے سامنے کارروائی کے لیے پیش کیا جائے گا۔







