اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ہفتے کے روز کہا کہ اگر ملکی سیاسی استحکام کے لیے ضرورت محسوس ہوئی تو حکومت ایک اور آئینی ترمیم بھی لانے سے گریز نہیں کرے گی۔
ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل 27ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہو کر نافذ کی گئی، جس پر اپوزیشن جماعتوں نے سخت اعتراضات اٹھائے تھے۔ فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ 26ویں اور 27ویں ترامیم نے سیاسی ماحول کو مستحکم کرنے میں مدد دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اگر استحکام برقرار رکھنے کے لیے مزید ترامیم کی ضرورت پڑی تو ہم اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر ضرور پیش کریں گے۔ قانون سازی پارلیمنٹ کا حق ہے اور اسی ادارے کو قانون سازی کا اصل اختیار حاصل ہونا چاہیے۔”
سینئر ججز کے حالیہ استعفوں پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے انہیں “سیاسی نوعیت کے” قرار دیا۔ 27ویں ترمیم کے نافذ ہونے والے دن ہی سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے استعفیٰ دے دیا تھا اور نئی ترمیم کو آئین اور عدلیہ کی خودمختاری کے خلاف قرار دیا تھا۔ اگلے روز لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے بھی اسی بنیاد پر استعفیٰ دے دیا، جبکہ اطلاعات ہیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی مزید استعفے سامنے آ سکتے ہیں۔
طلال چوہدری نے کہا کہ آئین میں ترمیم کرنا صرف پارلیمنٹ کا اختیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جج آئین کے تحت حلف اٹھاتے ہیں اور وہ “کوئی سیاسی جماعت نہیں کہ ہر ترمیم پر استعفیٰ دیں۔” انہوں نے مستعفی ججز پر جانبداری اور سیاسی نوعیت کے فیصلے دینے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ “’گُڈ ٹو سی یو‘ والا دور اب ختم ہو چکا ہے۔”
سابقہ سو موٹو اختیارات، جو 27ویں ترمیم کے تحت ختم ہو گئے ہیں، پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا استعمال اکثر منتخب وزرائے اعظم کو ہٹانے یا حکومتی معاملات میں مداخلت کے لیے کیا جاتا رہا۔
فیصل آباد کے ضمنی انتخابات کے حوالے سے طلال چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کا بائیکاٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ سخت مقابلے والے حلقوں میں الیکشن لڑنے سے گریزاں ہے۔ پی ٹی آئی کے بائیکاٹ، ٹی ایل پی پر پابندی اور پیپلز پارٹی کے امیدوار نہ لانے کے باعث 23 نومبر کو ہونے والے پانچوں حلقوں میں مسلم لیگ (ن) کی جیت کے امکانات واضح ہیں۔






