کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت حکومتِ بلوچستان نے "کینسر اور مہلک بیماریوں کے علاج کے منصوبے” میں توسیع کر دی ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی شراکت داری ہے جو حکومتِ بلوچستان اور عالمی شہرت یافتہ دوا ساز کمپنی روش فارما کے درمیان قائم کی گئی ہے۔
منصوبے کے تحت کینسر اور دیگر مہلک بیماریوں جیسے ملٹی پل اسکلروسس، ہیموفیلیا، اسپائنل مسکیولر ایٹروفی، ڈایابیٹک میکیولر ایڈیما اور مختلف اقسام کے بریسٹ، جگر اور پھیپھڑوں کے کینسر کا علاج مکمل طور پر مفت فراہم کیا جائے گا۔
اس اقدام سے بلوچستان پاکستان کا پہلا اور واحد صوبہ بن گیا ہے جو بڑے کینسرز اور مہلک امراض کے علاج کی مفت سہولت فراہم کر رہا ہے، جو صحت کے نظام میں ایک تاریخی پیش رفت ہے۔
چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منگل کے روز صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی زیرِ صدارت "چیف منسٹر انیشیٹیو فار ٹریٹمنٹ آف کینسر اینڈ ڈیدلی ڈیزیزز ایکسپنشن پروجیکٹ” کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اور روش فارما کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران حکومتِ بلوچستان اور روش فارما کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوئے۔ دستاویزات پر سیکرٹری صحت بلوچستان محمد داؤد خلجی اور روش پاکستان کی مینجنگ ڈائریکٹر حفظہ شمسی نے دستخط کیے۔
صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کی قیادت میں صحت کے شعبے میں انقلابی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ بلوچستان کے عوام کو جدید اور جان بچانے والے علاج کی سہولت مفت فراہم کی جا سکے۔







