کوئٹہ: بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران رواں سال 78 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے ہیں۔ یہ بات ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان محمد حمزہ شفقات نے ڈی آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) بلوچستان اعتزاز گورایہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
محمد حمزہ شفقات نے بتایا کہ مختلف سیکیورٹی آپریشنز کے دوران 707 دہشت گرد ہلاک یا گرفتار کیے گئے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 202 سیکیورٹی اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لیے صوبے بھر کے تھانوں کی فورٹیفکیشن اور بہتری کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ خاران میں کامیاب کارروائی کے دوران سٹی تھانہ خاران کے ایس ایچ او قاسم بلوچ کے قتل میں ملوث تین دہشت گرد گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو فارن ٹیررسٹ آرگنائزیشن قرار دینا ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیرونِ ملک بیٹھ کر دہشت گردی کروانے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے ریڈ نوٹس سیل قائم کر دیا گیا ہے، جس کے ذریعے عالمی سطح پر تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
اس موقع پر ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایس ایچ او سٹی خاران قاسم بلوچ کے قتل میں ملوث تینوں ملزمان کو جوائنٹ آپریشن میں گرفتار کیا گیا۔ ان کے مطابق گرفتار ملزمان کا تعلق کالعدم تنظیم بی ایل ایف سے ہے اور انہوں نے افغانستان سے دہشت گردی کی تربیت حاصل کی۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ دہشت گردوں کا منصوبہ ایس ایچ او کو اغوا کر کے تشدد اور پروپیگنڈا ویڈیوز بنانا تھا، تاہم قاسم بلوچ نے اغوا کی کوشش پر مزاحمت کی جس پر انہیں فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گرفتار ملزمان سے سرکاری ایس ایم جیز اور واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کر لی گئی ہے، جبکہ یہی گروہ نوشکی میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے کی منصوبہ بندی میں بھی ملوث تھا۔ ملزمان کو جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔






