نیوز ڈیسک
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے تمام معدنی وسائل صوبے کے عوام کی ملکیت ہیں اور غیرقانونی مائننگ صوبے کا ایک سنگین اور دیرینہ مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں ضلع پشین میں ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے باہمی تعاون سے کرومائٹ کی غیرقانونی مائننگ کے خلاف کامیاب کارروائی کی گئی، جس کے دوران 47 غیرقانونی مائنز کو بند کر دیا گیا۔ یہ اقدام صوبائی حکومت کی جانب سے معدنی وسائل کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کی پالیسی کا حصہ ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے مطابق صوبے کو مائنز اینڈ منرل سیکٹر سے سالانہ آمدن 10 ارب روپے سے بھی کم ہے، جس کی بنیادی وجہ غیرقانونی مائننگ، اسمگلنگ اور کمزور ریگولیٹری نظام ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے بغیر صوبے کی معاشی ترقی ممکن نہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے اعلان کیا کہ صوبائی حکومت معدنی وسائل کے شعبے میں اصلاحات کے لیے ایک جامع اور مؤثر پالیسی متعارف کرا رہی ہے، جس کا مقصد شفافیت، قانونی مائننگ کے فروغ، مقامی آبادی کے حقوق کے تحفظ اور صوبے کی آمدن میں نمایاں اضافہ کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گی، تاہم غیرقانونی مائننگ میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی جائے گی۔







